Bardasht Ki Bhi Aik Had Hoti Hai
برداشت کی بھی ایک حد ہوتی ہے
گورننس کے حوالے سے ملک کے ہر حصہ سے تشویش ناک واقعات کی خبریں آ رہی ہیں۔ ایسے معلوم پڑتا ہے کہ حکومت سمٹ کر رہ چکی ہے۔ انگریزوں کے دور کی ایک لفظی ترکیب "لا اینڈ آرڈر" یعنی امن و امان، دم توڑتا نظر آتا ہے۔ صرف ایک ریاستی ادارہ، جان ہتھیلی پر رکھ کر کام کرنے کی کوشش میں نظر آتا ہے۔ مگر سچ تو یہ ہے کہ بگڑے ہوئے امن کو سنبھالنا مشکل سے مشکل تر ہوچکا ہے۔ ایک انسانی ردعمل تو یہ ہے کہ پاکستانی شہری سوچنا چھوڑ دیں۔ روز کی بنیاد پر پیش آنے والی حکومتی نااہلی کو اپنا مقدر سمجھ کر خاموش ہو جائیں۔ اس معاملہ میں کوئی سائنسی تحقیق تو میرے سامنے نہیں ہے۔
پر لگتا ایسا ہی ہے کہ پاکستانیوں کی اکثر تعداد اتنے زخم کھا چکی ہے کہ آسمان کی طرف دیکھنے کے علاوہ ان کے پاس کوئی راستہ نہیں ہے۔ ان کی خاموش بددعائیں، کب رنگ لاتی ہیں۔ حالات کب درست سمت کی طرف گامزن ہونگے۔ قطعی طور پر کچھ بھی نہیں کہا جا سکتا۔ مگر انسان بہر حال، سوچنے کی قوت رکھتا ہے۔ شعور کی کس سطح پر ہے، اس کی کوئی کسوٹی نہیں ہے۔ اس کو پرکھنا بھی کافی مشکل ہے۔ مگر یہ بات تو طے ہے کہ ہمارے معاشرے میں سنجیدہ سوچ والے زندہ لوگ موجود ہیں۔
ان کی تعداد کم نہیں ہے۔ اکثر اوقات یہ فرمایا جاتا ہے کہ معاشرے میں باشعور لوگ کم ہوتے جا رہے ہیں۔ اس بات سے قطعاً اتفاق نہیں کرتا۔ جو فکری پختگی گذشتہ پانچ برس میں عام سطح پردیکھنے میں آئی ہے اسے نظر انداز کرنا مناسب نہیں ہے۔ قطعاً سیاست کی بات نہیں کر رہا۔ سادہ اور ٹھوس گزارش کر رہا ہوں کہ صوبائی حکومتیں اور مرکزی حکومت، ملک میں امن قائم رکھنے میں ناکام ہو چکی ہیں۔
افواج پاکستان، دہشت گردی سے کامیابی سے لڑ رہی ہیں۔ مگر سویلین ادارے ہاتھ پاؤں چھوڑ کر بیٹھ چکے ہیں۔ چند واقعات ثبوت کے طور پر عرض کرنا چاہوں گا۔ کیونکہ، اگر صرف وزراء اعلیٰ سے........
