100 Bilion Dollar Ki Khairat
جیمز سٹی ٹاٹا (Jamesetji tata) ہندوستان کے علاقہ گجرات میں ایک پارسی خاندان میں پیدا ہوا۔ 1839 کا زمانہ تھا۔ عام سی شکل صورت کا یہ بچہ، دنیا میں کیا انقلاب برپا کرے گا۔ اس کی بابت کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا تھا۔ بنیادی تعلیم حاصل کرنے کے بعد، اپنے والد نیرونجی ٹاٹا کی کمپنی میں کام کرنا شروع کر دیا۔ 29 برس کی عمر میں، والد کی کمپنی سے علیحدہ ہوا۔ 1868 میں اکیس ہزار روپے سے ایک تجارتی ادارہ بنا ڈالا۔ اس کی زندگی کے چار خواب تھے۔
پہلا کہ ایک لوہے کا بڑا کارخانہ لگایا جائے۔ دوسرا کہ ایک جدید طرز کا ہوٹل تعمیر کیا جائے- تیسرا یہ کہ ایک بجلی پیدا کرنے والا کارخانہ بنایا جائے اور چوتھا کام کہ برصغیر میں لوگوں کی تعلیم کے لیے ایک بہترین یونیورسٹی بنائی جائے۔ یہ چاروں کام اس نوجوان نے اپنی زندگی ہی میں مکمل کر لیے۔ مثال کے طور پر 1903 میں، بمبئی میں برصغیر کا سب سے انوکھا ہوٹل، ساحل سمندر کے سامنے بنا چکا تھا۔ اس کا نام "تاج" تھا۔ یہ ہوٹل آج بھی قائم ودائم ہے۔ ہندوستان کے مہنگے ترین ہوٹلوں میں شمار کیا جاتاہے۔ اس میں ٹھہرنا آج بھی اعزاز کی بات ہے۔
اسی طرح ٹاٹا ااسٹیل مل بھی اسی شخص کا کارنامہ تھا۔ اس کے علاوہ بینگلور میں انڈین انسٹیٹویٹ آف سائنس قائم کی۔ یہ تمام کام ہرگز ہرگز معمولی نہیں تھے۔ ٹاٹا اسٹیل، برصغیر کی نہیں بلکہ دنیا کی پانچویں سب سے بڑی مل ہے۔ بلکہ اب تو ایک محیر العقول تجارتی ادارہ بن چکا ہے۔ ان تمام دولت کمانے والے اداروں کے علاوہ، قدرت نے ٹاٹا سے جو کام لینا تھا، وہ سب سے عظیم تھا۔ اس کا تذکرہ کیے بغیر ہماری تاریخ میں سقم رہ جاتا ہے۔ ویسے انگنت پارسی تو تقسیم ہند کے بعد، پاکستان میں بھی تھے۔ مگر ہم حد درجہ مشکل لوگ ہیں۔
ہماری باتوں اور واعظوں سے گھبرا گئے اور بہت جلد، پاکستان سے ہجرت کرکے مختلف ممالک میں جا بسے۔ شاید آپ کے علم میں نہ ہو کہ ہمارے ملک میں یہودی بھی آباد تھے۔ مگر وہ بھی ریاستی اور عوامی بنیاد پرستی کے بڑھتے ہوئے رجحان کو دیکھ کر، جان بچا کر کم از کم پاکستان سے بھاگ گئے۔ دراصل، پاکستان........
