Bache Khud Kushi Kyun Karte Hain? (1)
بچے خود کشی کیوں کرتے ہیں؟ (1)
انسان فطری طور پر ماں کی محبت کا بھوکا ہوتا ہے۔ یہ بھوک ساری زندگی ختم نہیں ہوتی۔ ماں کی محبت کی ضرورت بڑھاپے میں بھی ہوتی۔ یہ زندہ رہنے کے لیے ضروری ہوتی ہے۔ کچھ بچے دوسروں کی نسبت ماں کی محبت اور توجہ زیادہ چاہتے ہیں۔ ایسے بچے بہت حساس ہوتے ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے ایک ننھنی منی بچی نے سکول کی چھت سے کود کر صرف اس لیے خود کشی کرلی تھی کہ میری والدہ دوسری بہن سے پیار کرتی ہیں جبکہ مجھ سے نہیں کرتی ہیں۔ یہ حادثہ مجھے اپنے بچپن میں لے گیا۔ جہاں مجھے دن رات یہ بات دکھی رکھتی تھی کہ میری والدہ مجھ سے محبت نہیں کرتیں۔ بلکہ دوسری بہن سے زیادہ محبت کرتی ہیں۔
مجھے یاد ہے میں کیسے ہر وقت اس بات پر روتی رہتی تھی اور اداس رہتی تھی۔ امی جب مجھے چھوڑ گئیں تو احساس ہوا کہ وہ تو سب سے زیادہ مجھے چاہتی تھیں۔ لیکن ایسے کیا عوامل تھے جن سے میرے دل میں یہ احساس پیدا ہوا کہ میری والدہ مجھے کم چاہتی ہیں۔ میری والدہ کا ایک نظریہ تھا کہ بچہ روٹھ گیا ہے تو اسے منانا نہیں۔ ایک بار منایا تو روز روٹھے گا۔ یہ اس کی تربیت کے لیے ضروری ہے۔ دوسرا امی اپنے بچوں سے محبت کے اظہار میں کنجوسی کرتی تھیں۔ حالانکہ میں اب سوچوں اور دیکھوں تو امی مجھے ڈانٹ کر خود بھی رو دیتی تھیں۔ میری خواہش فوری پوری کرتی تھیں۔ یہ محبت ہی تو تھی۔ لیکن ایک حساس بچے کی ضروریات مختلف ہوتی ہیں۔ وہ بچہ ہے۔ وہ آپ کے ان چھپے ہوئے جذبات کو سمجھنے سے عاری........
