Europe Ki Panah Gahein Aur Humare Ujre Hue Khwab
یورپ کی پناہ گاہیں اور ہمارے اجڑے ہوئے خواب
تاریخ کے اوراق پلٹ کر دیکھیں تو ایک تلخ، سچی اور گہری بات بار بار ہمارے سامنے آ کر کھڑی ہوتی ہے کہ اس ملک کے روشن ذہن، لکھنے والے، سوچنے والے اور سچے رہنما اپنی زندگی کے آخری ایام میں اپنے وطن میں سکون ڈھونڈنے کے بجائے یورپ یا مغرب کے ملکوں میں جا کر کیوں چھپ جاتے ہیں؟ پاکستان اور اس پورے خطے کی تاریخ ایسے کئی بڑے ناموں سے بھری پڑی ہے جنہوں نے اپنی جوانی، اپنا علم، قلم کی طاقت اور زندگی کا ایک ایک لمحہ اس ملک کی بہتری، قانون کی بالادستی اور عوام کو جگانے میں لگا دیا۔ لیکن جب ان کا آخری وقت آیا، تو نہ ان کے پاس اپنا گھر تھا اور نہ ہی ان کے سر پر اپنوں کا سایہ۔
جلال الدین عبدالرحیم (جے اے رحیم)، جو ایک جلیل القدر سفارت کار، عظیم مفکر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی رہنما تھے، ان کی زندگی اس المیے کی سب سے بڑی مثال ہے۔ جے اے رحیم وہی شخصیت تھے جنہوں نے 1967ء میں پیپلز پارٹی کا بنیادی اور تاریخی منشور لکھا اور عوام کو حقوق کا شعور دیا۔ وہ ملک کے پہلے وزیرِ پیداوار بھی بنے، لیکن جب انہوں نے اقتدار کے ایوانوں میں آمرانہ رویوں کے خلاف آواز اٹھائی اور سچ بولا، تو 1974ء میں ان پر اور ان کے بیٹے پر تشدد کروا کر انہیں ملک چھوڑنے پر مجبور کر دیا گیا۔ جے اے رحیم اور ان کے فرزند سکندر رحیم سے لے کر نہ جانے کتنے ہی ادیب، دانشور اور رہنما جنہوں نے اس ملک کے لوگوں کو ایک اچھا خواب دکھایا تھا، وہ آخر کار یورپ یا امریکہ کے کسی ہسپتال کے ٹھنڈے اور اجنبی کمرے میں آخری سانسیں لینے پر کیوں........
