Davat Ka Udhar, Niji Taleemi Mandi Aur Mazdoor Ki Dehari
دوات کا ادھار، نجی تعلیمی منڈی اور مزدور کی دہاڑی
پاکستان کے تعلیمی نظام، ریاستی ترجیحات اور بنیادی سہولیات کی بات کی جائے تو سب سے پہلا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس ملک کے ہر بچے کے لیے آئینِ پاکستان کی دفعہ 25-الف کے تحت یکساں تعلیم کا جو بنیادی حق تسلیم کیا گیا تھا، وہ عملی طور پر کہیں موجود بھی ہے یا صرف کاغذوں کی زینت بن کر رہ گیا ہے؟ آئین پاکستان کی یہ اہم ترین دفعہ 25-الف صراحت کے ساتھ ریاست کو پابند کرتی ہے کہ وہ 5 سے 16 سال کی عمر کے تمام بچوں کو مفت اور لازمی تعلیم فراہم کرے۔ یہ کوئی احسان یا رعایت نہیں بلکہ شہریوں کا بنیادی آئینی حق ہے جس کی فراہمی کے لیے قانون سازی اور عملدرآمد کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ مگر عملی طور پر اس کا جواب ایک نہایت تلخ حقیقت، گہری معاشرتی تفریق اور خوفناک اعداد و شمار کے روپ میں ہمارے سامنے آتا ہے۔
عالمی ادارے اور زمینی حقائق بلا کم و کاست گواہی دے رہے ہیں کہ پاکستان کا تعلیمی نظام صرف زبوں حالی اور انتظامی غفلت کا شکار ہی نہیں ہے، بلکہ یہ اب دو واضح اور متضاد طبقات میں تقسیم ہو چکا ہے۔ ایک طرف عام اور غریب انسان کا بچہ ہے جس کے حصے میں ٹوٹی ہوئی عمارتیں، بھاری اخراجات اور امتحانات میں ناکامی آتی ہے اور دوسری طرف ملک کے حکمران، تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماء اور اشرافیہ کا طبقہ ہے جس کی اگلی نسلوں کے لیے مغربی ایوانوں کی مہنگی ترین تعلیم اور پرتعیش مراعات مخصوص ہیں۔
ایک وہ دور تھا جب ابتدائی اسکول کی تعلیم صرف خشک معلومات کا نام نہیں تھی، بلکہ وہ نظم و ضبط، تربیت، اخلاقیات اور مساوات کا بہترین ذریعہ ہوا کرتی تھی۔ اُس دور میں بچے تختی گھر سے لکھ کر لاتے تھے اور صبح اسکول پہنچتے ہی استاد محترم سب سے پہلے تمام بچوں کی تختیاں قطار میں رکھوا کر جانچتے۔ جو بچہ کسی وجہ سے گھر سے تختی لکھ کر نہ لاتا، اسے اسکول پہنچ کر سب سے پہلے تختہِ سیاہ یا تختی پر اپنی مشق مکمل کرنا پڑتی تھی۔ اس کے بعد دوپہر کو تفریح کے وقت تمام بچے نلکے یا کھال پر جا کر اپنی تختیوں کو دھوتے، ان پر گاچی پوت کر دھوپ میں سکھاتے اور تفریح ختم ہوتے ہی دوبارہ تختی لکھنے کا مرحلہ شروع ہو جاتا تھا تاکہ ہاتھ........
