Mian Bhai Ki Unchi Tang
"میاں بھائی" کی اونچی ٹانگ
بدھ کی صبح اٹھ کر یہ کالم لکھنے کو قلم اٹھایا تو یاد آیا کہ منگل کی سہ پہر چار بجے کے بعد نہادھوکر کپڑے بدل لئے تھے۔ ٹی وی سکرین کے تقاضوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے ٹائی باندھ کر کوٹ بھی پہن لیا۔ کوٹ ٹائی پہن کر تیار ہوئے "سینئر تجزیہ کار" کو مگر شام کے ساڑھے 6 بجے تک خبر ہی نہیں تھی کہ وہ ٹی وی چینل کے دفتربھی جاپائے گا یا نہیں۔ جس سٹوڈیو میں "بالم" بن کر بیٹھنا تھا وہ اسلام آباد کے ریڈزون میں واقع ہے۔ ریڈ زون تک جانے والے معمول کے تمام راستے مگر خار دار تاریں لگاکر بند کردئے گئے تھے۔ متروک راستوں سے گزرکر دفتر کے قریب اگرچہ پہنچاجاسکتا تھا۔ اس دفتر تک رسائی بھی لیکن خاردار تار کی باڑ لگاکر ناممکن بنادی گئی تھی۔ مقامی انتظامیہ اور سکیورٹی کے ذمہ دار اعلیٰ ترین حکام بھی سٹوڈیو تک رسائی فراہم کرنے کی اجازت دینے سے ہچکچارہے تھے۔
ریڈزون جانے والے راستوں پر مسلط کئے حفاظتی اقدامات اسلام آباد کو اس سحر زدہ شہر کی صورت دکھارہے تھے جن کا ذکر بچپن میں سنائی طلسماتی کہانیوں میں ہوا کرتا تھا۔ وہ شہر جہاں کے باسی اور معمول کی زندگی یکدم ساکت ہوجاتی ہے۔ ہو کا عالم جی کو گھبراہٹ میں مبتلا کررہا تھا۔ صحافتی تجربہ مگر ہو کے اس عالم سے خیر کی خبر یہ نکال رہا تھا کہ روایتی اور سوشل میڈیا سے آئے پیغامات کی بھرمار کے برعکس امریکہ اور ایران کے اعلیٰ ترین ریاستی اور سرکاری نمائندے کسی بھی وقت امن مذاکرات........
