menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Meri Teesri Raah Dhoondne Ki Mashq

162 0
23.09.2026

میری "تیسری راہ" ڈھونڈنے کی مشق

صحافت کو تاریخ کا پہلا ڈرافٹ کہا جاتا تھا۔ "ڈرافٹ" کا اردو متبادل میں جاہل ڈھونڈنے میں ناکام رہا۔ سادہ لفظوں میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ پرانے دور کے صحافی برسرزمین حقائق کے مشاہدے کے بعداخبارات میں جو رپورٹ کریں وہ تاریخ دان کوکسی دور کے اہم سیاسی واقعات کا تجزیہ کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔

برسرزمین موجود رہ کر رپورٹنگ کی دورِ حاضر کے صحافی کو ضرورت نہیں رہی۔ سوشل میڈیا پر مصدقہ اور غیر مصدقہ اطلاعات میں سے اپنی پسند کے واقعات جمع کرتے ہوئے اندھی نفرت وعقیدت میں تقسیم ہوئے معاشرے کے کسی ایک گروہ کے غصے اور تعصب کو واجب ٹھہراکر یوٹیوب کے ذریعے مستقل مداحین کا ہجوم جمع کرلیتے ہیں۔ ایکس اور فیس بک کے شیئرز اور لائیکس بھی اس ضمن میں صحافی کو محض ٹھوس واقعات کا راوی پیش کرنے کے بجائے حق وصداقت کا علمبردار یا حکومتی ٹاؤٹ ثابت کرتے ہیں۔ ذاتی طورپر میں پرانی اور نئی طرز صحافت کے مابین معلق ہوا محسوس کرتا ہوں۔ غالب کی طرح "کعبہ میرے پیچھے ہے کلیسا میرے آگے" والے دوراہے پر مفلوج ذہن کے ساتھ منجمد محسوس کرتے ہوئے تاہم "تیسری راہ" ڈھونڈنے کی مشق میں مصروف رہتا ہوں۔

گزشتہ چند ہفتوں سے ہمارے ہاں اسلام آباد پر دھاوے کی تیاریاں ر ہورہی ہیں۔ دارالحکومت پر یلغار کے حوالے سے توجہ فقط تحریک انصاف پر مرکوز رہی ہے۔ چند ہی افراد کو یاد رہا کہ ہمارے ہاں جماعت اسلامی کے نام سے ایک منظم جماعت بھی قیام پاکستان سے قبل ہی قائم ہوچکی تھی۔ اس کے امیر نے بھی پٹرولیم لیوی کے خاتمے کے لئے اسلام آباد پر دھاوا بولنے کا ارادہ باندھ رکھا ہے۔ انتخابی اعتبار سے یہ جماعت 2002ء کے علاوہ کبھی مؤثر ثابت نہیں........

© Daily Urdu