menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Islamabad Par Dhaway Ko Bechain Anasir Long Marchon Ka Anjam Saamne Rakhein

31 0
22.09.2026

اسلام آباد پر دھاوے کو بے چین عناصر لانگ مارچوں کا انجام سامنے رکھیں

سیاسی حرکیات کے بنیادی اصولوں پر توجہ مرکوز رکھتے ہوئے مسلسل سوچتا رہا ہوں کہ ہماری تاریخ میں لانگ مارچ کی صورت دارالحکومت پر چڑھائی کونسی حکومت کو بدلنے یا جھکنے کو مجبور کرپائی۔ ذاتی یادداشت پر کامل بھروسے نے نتیجہ یہ نکالا کہ ایک بھی نہیں۔ بطور طالب علم ایوب خان کے دس سالہ دورِ اقتدار کو مارچ 1969ء میں ختم ہوتے دیکھا ہے۔ میں خود بھی کالج کے ابتدائی دنوں میں ایوب حکومت کیخلاف چلائی تحریک کا متحرک کارکن تھا۔ مذکورہ تحریک کا آغاز کراچی سے ہوا تھا۔ بائیں بازو کی طالب علم تنظیم "نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن (این ایس ایف)" نے اس کی بنیاد رکھی۔

ایوب خان کے دس سالہ دورِ اقتدار کو "عشرہِ ترقی"ٹھہراتے ہوئے ذہین وفطین مشہور ہوئے وزیر اطلاعات الطاف گوہر نے ملک بھر میں تقاریب کا اہتمام کررکھا تھا۔ این ایس ایف ان تقاریب کیخلاف احتجاج کرتے ہوئے "عشرہِ ترقی" کو غریب طبقات کی زندگی اجیرن کرنے کا ذمہ دار ٹھہراتی۔ یہ تحریک غالباََ کراچی تک ہی محدود رہتی۔

راولپنڈی کے پولی ٹیکنیکل کالج کے چند طلبہ مگر 1968ء کے اختتامی ایام میں تفریحی سفر کے لئے پشاور گئے ہوئے تھے۔ وہاں سے لنڈی کوتل بھی گئے۔ اس کے بازار سے چند سمگل شدہ اشیا خریدیں۔ راولپنڈی واپس آتے ہوئے انہیں شہر میں داخلے کے ایک مقام پر روکا گیا۔ اینٹی سمگلنگ کے اہلکاروں سے جھگڑا بڑھا تو پولیس مداخلت کو مجبور ہوئی۔ پولیس سے جھڑپوں کے دوران ایک طالب علم کے جاں بحق ہونے کی خبر پھیل گئی۔ اتفاقاََ ان دنوں پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو راولپنڈی میں موجود تھے۔ وہ حکومت گرانے کی تیاری کررہے تھے۔ انہیں طلبہ سے یک جہتی کے اظہار کا جواز مل گیا اور طلبہ احتجاج اس کے بعد ملک بھر میں تیزی سے پھیلنا شروع ہوگیا۔

ٹھنڈے دل سے ذاتی یادداشتوں کو ٹٹولا تو احساس ہوا کہ........

© Daily Urdu