menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Baladast Parliman Ke Bebas Akabireen

26 0
16.10.2026

بالادست پارلیمان کے بے بس اکابرین

طویل وقفے کے بعد قومی اسمبلی کا اجلاس جب بھی شروع ہو تو اس کے پہلے دن دوسرے شہروں سے مذکورہ اجلاس میں شرکت کی غرض سے آئے اراکین ایک دوسرے کے ساتھ گرم جوش مصافحوں کے بعد گپ شپ میں مصروف ہوجاتے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ گرمیوں کی تعطیلات کے بعد بے فکر طالب علم اچھے دن گزارنے جمع ہورہے ہیں۔ منگل کی صبح "اچھے دنوں " کی امید مگر مفقود تھی۔ اراکین کی اکثریت سر جھکائے ایوان میں داخل ہونے کے بعد اپنے لئے مختص نشستوں پر بیٹھی رہی۔

وزیر اعظم اور سینئر وزراء کے لئے مختص پہلی قطار میں وزیر دفاع خواجہ آصف تنہا بیٹھے نظر آئے۔ اجلاس شروع ہوتے ہی حکومتی بنچوں کی دوسری صف سے وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ ایک طویل خطاب کے ذریعے یہ سمجھانے میں مصروف ہوگئے کہ خیبرپختونخوا میں ہنگامی حالات اور گورنر راج کے امتزاج کے ساتھ منتخب صوبائی حکومت کو معطل کرتے ہوئے نیا انتظامی بندوبست متعارف کروانا کیوں ضروری ہے۔ ہنگامی حالات جمع گورنر راج کے نفاذ کے لئے جاری ہوئے صدارتی حکم کی تصدیق کے لئے اراکین اسمبلی کو راغب کرتے ہوئے وزیر قانون مختلف وزراء کی جانب سے بارہا سنائی کہانیاں دہراتے رہے۔ ان کے ذریعے یہ تاثر اجاگرکرنا مقصود رہا کہ حکومتی نمائندوں کے ساتھ ہنگامی حالات اور گورنر راج کو ٹالنے کی راہ ڈھونڈنے کی خاطر ہوئے مذاکرات میں شریک تحریک انصاف کے نمائندگان بے اختیار تھے۔ حکومت نے ہنگامی حالات کے نفاذ سے گریز کی خاطر ہر ممکن لچک دکھائی۔ خیبرپختونخوا کے جواں سال وزیر اعلیٰ مگر تحریک انصاف کے روپوش مگر انتہا پسند مراد سعید کے حکم پر حتمی معاہدے پر رضا مند نہ ہوئے۔

اعظم نذیر تارڑ کی سنائی داستان اکتادینے کی حد تک طویل تھی۔ اس کی طوالت سے بیزاری کا اظہار انتہائی مہذب انداز میں حکومت ہی کی حلیف پیپلز پارٹی کی جانب سے ہوا۔ ٹنڈو محمد خان سے 1990ء کی دہائی سے قومی اسمبلی کے لئے مسلسل منتخب ہونے........

© Daily Urdu