menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Ameer o Ghareeb Ko Yaksaan Nigah Se Dekhne Wala Bandobast

6 9
11.02.2026

پیر کے روز بجلی کی پیداوار کے علاوہ خریدوفروخت پر نگاہ رکھنے والے ادارے "نیپرا" نے بالآخر نئی سولر پالیسی کا اعلان کردیا ہے۔ اس کا اجراء کردہ"فرمان" سترہ صفحات پر مشتمل ہے۔ میں نے ان صفحات کو ڈائون لوڈ کرنے کے بعد نہایت غور سے پڑھا۔ بالکل سمجھ نہ پایا کہ میرے گھر کی چھت پر دس سے زیادہ لاکھ خرچ کرنے کے بعد سورج سے بجلی حاصل کرنے کے جو پینل لگوائے گئے تھے ان کے ہوتے ہوئے بھی میرے ہاں آئے ماہانہ بجلی کے بل میں کیا فرق پڑے گا۔ اپنی کم علمی سے اکتاکر تین سے زیادہ لوگوں سے رابطہ کیا۔ وہ بھی نیپرا کے جاری شدہ فرمان کو غور سے پڑھنے کے باوجود کچھ بتانے کے قابل نہیں تھے۔

میری طرح وہ بھی سمجھ سکے تو فقط اتنا کہ ہمارے گھروں پر لگے سولر پینلوں سے حکومت جو بجلی خریدتی ہے اس کے نرخ کم از کم آدھے کردئیے گئے ہیں۔ واپڈا کا لگایا نیٹ میٹر نظر بظاہر اب کسی کام کا نہیں رہا۔ بجلی کا ہر یونٹ خرچ کرنے کی مجھے اتنی ہی قیمت ادا کرنا ہوگی جو سولر پینل نہ لگوانے والے ادا کررہے ہیں۔ جو بجلی ہمارے ہاں لگے سولر پینل سے نیشنل گرڈ میں جارہی ہے اس کی قیمت کا تعین اور ادا کرنے کا طریقہ بھی جناتی انگریزی میں لکھے صفحات میں سادگی اور تفصیل سے بیان نہیں ہوا۔ اس ضمن میں "نیشنل ایوریج" (قومی اوسط) کا ذکر ہوا ہے۔ "اوسط" کیسے طے کی جائے گی؟ اس کی وضاحت موجود نہیں۔

آج کے نوجوان مجھ جیسے جاہل نہیں اکثر نے اپنے ہاتھوں میں موجود فونوں میں ہر مہینے 8سے 10ہزار روپے خرچ کرنے کی بدولت مصنوعی ذہانت والی ایپ لگارکھی ہے۔ مجھ بڈھے پر ترس کھاتے ہوئے ایک نوجوان نے ہمارے ہاں آئے بجلی کے بل کی کاپی منگوائی اور اس کے بعد اپنے فون سے کھیلتے ہوئے بتایا بھی تو فقط اتنا کہ میرے گھر میں اوسطاََ بجلی کے کتنے یونٹ استعمال ہوتے ہیں۔ ان کی قیمت کے تعین کے بعد مختلف النوع ٹیکسوں کو بھی........

© Daily Urdu