menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Agle Qadam Se Pehle Pti Apni Tanzeemi Kamzorion Ka Jaiza Le

8 12
10.02.2026

حیران کن "خبر" آپ کو یہ دینا ہے کہ اتوار کی شام گزرجانے کے بعد مجھے لاہور، پشاور اور کراچی کے علاوہ دیگر کئی شہروں سے بھی چند فون آئے۔ جن لوگوں نے رابطہ کیا ان میں سے دو کے علاوہ ان سیاسی جماعتوں کے دیرینہ کارکن تھے جو ان دنوں اقتدار میں ہیں۔ تحریک انصاف کے وہ مستقل نقاد رہے ہیں۔ اپنے علاقوں میں اس پہچان کے باوجود میرے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے وہ پریشان سنائی دئے۔ انہیں حیرت تھی کہ تحریک انصاف کی بارہا دہرائی کال کے باوجود ان کے علاقوں میں احتجاجی سرگرمی ہرگز نظر نہیں آئی۔ ان کی حیرانی کا لطف اٹھاتے ہوئے میں انہیں "مبارکبادی" کے الفاظ کہتا تو وہ مزید پریشان لہجے سے مجھے شرمسار کرتے رہے۔

جن لوگوں نے رابطہ کیا وہ برسوں سے اس گروہ سے تعلق رکھتے ہیں جسے "سیاسی کارکن" کہا جاتا ہے۔ اس گروہ کی تعداد رواں صدی کے آغاز سے مسلسل سکڑ رہی ہے۔ بنیادی طورپر یہ نچلے متوسط طبقے کے نمائندہ تھے۔ مسلم لیگ (نون) پیپلز پارٹی سے ان کی وابستگیاں "نظریاتی" تھیں۔ اپنی وابستگی کو انہوں نے ذاتی مفادات کیلئے استعمال نہیں کیا۔ جن لوگوں نے فون کئے ان میں سے کم از کم تین افراد بیرون ملک گئے بچوں کی بھیجی رقوم کی بدولت سفید پوشی کا بھرم رکھے ہوئے ہیں۔ ان کے ساتھ بے تکلفانہ مسخرہ پن کی مجھ میں جرأت نہیں تھی۔

نہایت سنجیدگی سے انہیں یاد دلایا کہ تحریک انصاف ان کی نگاہ میں "فسطائیت" کی علامت رہی ہے۔ اس کی احتجاجی تحریک کی ناکامی سے انہیں تو خوش ہونا چاہیے۔ ایک صاحب نے جو عمر میں مجھ سے بڑے ہیں، نہایت شفقت سے جواب دیا کہ وہ عمر کے اس حصے میں پہنچ چکے ہیں جہاں زندگی کا ہر دن "بونس" شمار ہوتاہے۔ میں اپنے بارے میں بھی یہ ہی محسوس کرتا ہوں۔ ان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کردیا تو انہوں نے فکر مندی سے اعتراف کیا کہ تحریک انصاف کی ناکامی ان کا دردِ سر نہیں۔ یہ سوچتے ہوئے پریشان ہورہے ہیں کہ عوام کی اکثریت فقط........

© Daily Urdu