Abdul Waheed Kakar Ke Army Chief Banne Ka Qissa
عبدالوحید کاکڑ کے آرمی چیف بننے کا قصّہ
جنرل عبدالوحید کاکڑ مرحوم کے بارے میں لکھے کالم کو مکمل کئے بغیر اسرائیل کے انتخاب کے نتائج کی جانب بھٹک جانا دیرینہ قارئین کو پسند نہیں آیا۔ اصل کہانی کی جانب لوٹنا ہوگا۔ گزشتہ کالم کے اختتام پر اعتراف کیا تھا کہ اسلام آباد کے سازشی ڈرائنگ روموں میں کسی ایک شخص نے بھی آصف نواز جنجوعہ کی وفات کے بعد ان کے ممکنہ جانشین کے طورپر جنرل وحید کاکڑ کا نام نہیں لیا تھا۔ جنرل ضیاء کے برسوں تک بااختیار سیکرٹری اطلاعات رہے جنرل مجیب واحد شخص تھے جنہوں نے ان کی تعیناتی سے دو روز قبل ان کا نام مجھے نہایت اعتماد سے بتایا تھا۔ 12جنوری 1993ء کے روز مرحوم کی بطور آرمی چیف تعیناتی ہوگئی تو میں نے طے کرلیا کہ جنرل مجیب سے یہ معلوم کیا جائے کہ انہوں نے میرے پوچھنے پر فقط وحید کاکڑ ہی کا نام کیوں لیا تھا۔
ان سے ملاقات کا موقع ڈھونڈ رہا تھا تو اتفاقاََ ایک تقریب میں مل گئے۔ ان سے گزارش کی کہ صحافتی تجسس کی تسکین کے لئے کچھ وقت درکار ہے۔ انہوں نے سماجی تقریب ختم ہونے سے قبل باہر نکلتے ہوئے اپنے گھر آنے کی دعوت دی۔ میں وہاں پہنچا تو اکیلے بیٹھے منتظر تھے۔ بیٹھتے ہی میں نے سوال اٹھایا کہ جنرل وحید کاکڑ کا نام ان کے ذہن میں کیسے آیا تھا۔ وہ مسکرائے اور انکشاف کیا کہ جنرل آصف نواز جنجوعہ کے جنازے میں شرکت کے وقت صدر غلام اسحاق خان نے وہاں موجود چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کو کہا کہ رات کے کھانے سے قبل ایوانِ صدر آجائیں۔ وہاں بیٹھ کر طے کیا جائے کہ جنجوعہ مرحوم کا جانشین کون ہونا چاہیے۔ چیئرمین نے مجیب صاحب کو ایوان صدر جانے سے قبل اپنے ہاں چائے کے لئے مدعو کیا۔ جنرل مجیب وہاں پہنچے تو انہیں فوج کے سینئر جرنیلوں کی فہرست دکھائی گئی۔ جنرل مجیب نے اس پر سرسری نگاہ ڈالتے ہی یہ رائے دی کہ مذکورہ فہرست میں سے صدر اسحاق عبدالوحید کاکڑ کو منتخب کرنا چاہیں گے۔
میں نے اس کی وجہ پوچھی تو جنرل مجیب نے بزرگانہ انداز میں سمجھایا کہ جب کوئی فیصلہ ساز کسی معاملے میں تمہاری رائے جاننا چاہے تو بجائے اپنی پسند بیان کرنے کے یہ سوچنے کی کوشش کرو کہ فیصلہ........
