menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Jaun Eliya Ki Ramooz

36 0
15.04.2026

جون نے فلسفے کے ساتھ عالمی ادیبات کے کچھ متون کا بہ طور خاص مطالعہ کیا، عربی و فارسی کے شاہ کاروں کے علاوہ مغربی ادبیات کے منتخب حصوں کو توجہ سے پڑھا۔

بائبل، جون کی دل چسپی کا بہ طورِ خاص مرکز بنی۔

جون نے بائبل ہی کے اسلوب میں، 1962ء "راموز" لکھنا شروع کی، جسے وہ وقفے وقفے سے اگلے بارہ برس تک لکھتے رہے۔ جون کا عزم تھا کہ وہ عالمی ادب کا ایک شاہ کار تخلیق کریں گے۔

جون کے کچھ تراجم (اخوان الصفا اور کتاب الطواسین کے بالخصوص) کا ذکر بھی ملتا ہے، جن کے بارے میں جون کا خیال تھا کہ وہ ایک صندوق میں بند تھے، جو بارش کی نذر ہوگیا۔ ہوسکتا ہے، یہ بھی جون کا عزم ہی ہو۔

جون کے عزم اور عمل میں فاصلہ موجود رہا ہے۔

بہ ہر کیف، جون نے نئی آگ کا عہدنامہ، کے عنوان سے ایک نیا عہد نامہ لکھنا شروع کیا، جس کا نام بعد میں "راموز" کردیا۔

وہ جس سطح کی بڑی اور ضخیم نظم لکھنے کا ارادہ رکھتے تھے، اسے پورا نہ کرسکے۔

ایک عظیم نظم لکھنے کے لیے، جون کے پاس صلاحیت تھی، اس کے اظہار کے لیے جس مکمل اور مسلسل ارتکاز کی ضرورت تھی، جون اس سے محروم رہے۔

موجود ہ حالت میں "راموز" ایک بڑے تخلیقی حوصلے اور جوش کے ابھرنے، ڈوبنے کا قصہ معلوم ہوتی ہے۔ اس نظم سے، انھیں اس قدر گہرا، داخلی لگاؤ تھا کہ وہ خود کو عہدنامہ عتیق کی فضا میں محسوس کیا کرتے۔

عہد نامہ عتیق کی فضا کیا تھی؟ یہ دجلہ وفرات کی وادی ہے، جہاں چودہ ہزار برس پہلے، انسانی تہذیب کے پہلے ابواب تخلیق ہوئے۔

پہلی بار فطرت کے اس اسرار کو محسوس کیا گیا ہے، جسے کہیں مانا، کہیں numinous یعنی نور کہا گیا، یعنی تقدیس کی ہمہ گیر و لاانتہا فضا کو محسوس کیا گیا جو بعد میں مذہب کی بنیاد بنی۔

یہیں پہلی بار تحریر (cuneiform) ایجاد ہوئی۔ لائبریری کا تصور پیدا ہوا۔

پہیے کا تصور قائم ہوا۔ یہیں پہلے شہر بسے: سومیریوں کا اُر، اکادیوں اور سومیریوں کا بابل، جسے اشوریوں نے بھی پایہ تخت بنایا، نیز عروق، شپورک، کنعان۔

یہیں شہری تہذیب نے دنیا کی پہلی ادبی کتاب، گل........

© Daily Urdu