Kashmir Hamara Hai, Saare Ka Saara Hai
کشمیر کا ایشو شائد پاکستان کا واحد ایشو ہے جس پر پوری قوم متحد ہے اور کشمیر پر اپنا حق جتاتی ہے۔ ہر سیاسی جماعت دوسری سے بڑھ کے کشمیر اور کشمیریوں سے یکجہتی کا مظاہرہ کرتی ہے ورنہ ہمارے پاس اپنے دفاع سے معیشت تک بھانت بھانت کی بولیاں بولنے والے اتنے ہو چکے کہ ہم ایک قوم لگتے ہی نہیں۔ ہم نے آزادی کو مادر پدر آزادی کے طور پر لے رکھا ہے۔ ہم شائد دنیا کی واحد قوم ہیں جس کے پاس حملہ آور بھارت اور دہشت گردافغانستان کی ترجمانی کرنے والے بھی موجود ہیں۔
ہمارے سوشل میڈیا پر ایسے یوٹیوبرز موجود ہیں جو اپنی شاہ دولہ کے چوہوں جیسے سروں میں نصب مونہوں سے بتاتے ہیں کہ نریندر مودی نے پاکستان پر حملے کے لئے بہترین وقت چنا کیونکہ ان کی نظر میں پاکستان کی قوم پاکستان کی فوج کے ساتھ نہیں کھڑی، ایک اور نمونہ قسم کی ٹویپ، ٹوئیٹ کرکے بتاتی ہے کہ بھارت کا پاکستان پر پلٹ کر زوردار وار۔ یہ وہ نادر نمونے ہیں جو فیض حمید اور اس کے ہم نوائوں نے تیار کئے، اول الذکرکے بارے تو سابق آرمی چیف نے کہا کہ وہ صبح شیو کرتے ہوئے اس کی الم غلم گفتگو سنتے تھے اور پھر نتیجہ وہی نکلا جو ایسے ذہنی مریضوں کی باتیں سننے کے بعد نکلتا ہے۔
ہوا یوں کہ اس ٹولے کے سربراہ نے دعا کی کہ نریندر مودی انتخابا ت جیت جائے۔ یہ شائد اس کی واحد دعا ہوگی (یاپاکستان کے لئے حسب روایت بددعا) جو قبول ہوگئی۔ یہ وہی نریندر مودی ہے جس نے پانچ اگست دو ہزار انیس کو بین الاقوامی قوانین اور اخلاقیات سب کو نظرانداز کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کو بھارت کا آئینی حصہ بنانے کا اعلان کر دیا اوراس موقعے پر یہ ٹولہ ایک دو........
