menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Vienna Mein Goonja Justice Ayesha A. Malik Ka Naam

33 0
13.09.2026

ویانا میں گونجا جسٹس عائشہ اے ملک کا نام

قدیم یونان سے لے کر جدید فلاحی ریاستوں تک قانون کی حکمرانی ہی وہ بنیادی ستون ہے جو کسی بھی مہذب تہذیب کو قائم و دائم رکھتا ہے۔ جب ہم اکیسویں صدی کی اس جدید دنیا میں ریاستوں کی کارکردگی کا تقابلی جائزہ لیتے ہیں، تو بین الاقوامی ادارے دنیا بھر کے نظام ہائے عدل کی حقیقت کو بے نقاب کرتے ہیں۔ اس ضمن میں ورلڈ جسٹس پروجیکٹ (WJP) کی رول آف لا انڈیکس 2025 کے مطابق قانون کی حکمرانی اور عدالتی و قانونی کارکردگی کی عالمی رینکنگ میں پاکستان دنیا بھر کے 143 ممالک میں 130 ویں نمبر پر موجود ہے۔ یہ اعداد و شمار ہمارے لیے لمحہ فکریہ ہیں اور اس تلخ حقیقت کے غماز ہیں کہ ہمارے ہاں عام سائل کو انصاف کی فراہمی کا نظام کتنی کٹھن، سست اور پسماندہ حالت میں ہے۔

مگر تاریخ کا یہ بھی اٹل اصول ہے کہ اندھیری رات کتنی ہی طویل کیوں نہ ہو، کوئی نہ کوئی روشن کرن افق پر ضرور نمودار ہوتی ہے۔ جب ملکی نظامِ عدل کی تاریک تصویر دل کو افسردہ کرتی ہے، تو وہیں کچھ ایسی قدآور شخصیات بھی جنم لیتی ہیں جو اپنی فکری جرأت، غیر متزلزل اصول پسندی اور قانونی بصیرت سے پوری دنیا میں وطن کا سر فخر سے بلند کر دیتی ہیں۔ گذشتہ روز سپریم کورٹ آف پاکستان کی معزز جج، جسٹس عائشہ اے ملک کو آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں منعقدہ 7ویں بین الاقوامی ویمن ان لا کانفرنس کے دوران باوقار جسٹیشیا ایوارڈز 2026 (Justitia Awards Gala) میں انٹرنیشنل لیڈرز / لائف ٹائم اچیومنٹ (بین الاقوامی رہنما / زندگی بھر کی نمایاں خدمات) کے زمرے میں جسٹیشیا ایوارڈ 2026سے نوازا گیا ہے۔

یہ ایوارڈ آسٹریا میں قائم 'ویمن ان لاء انیشی ایٹوکی جانب سے ہر سال پیش کیا جاتا ہے، جو دنیا بھر میں قانون کے........

© Daily Urdu