menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Pakistan Mein Corruption Ki Darja Bandi

38 0
10.09.2026

پاکستان میں کرپشن کی درجہ بندی

جس معاشرے میں وسائل کی تقسیم غیر منصفانہ ہو اور قانون کی گرفت کمزور طبقے کے لیے آہنی جبکہ طاقتور طبقے کے لیے نرم ہو، وہاں پائیدار ترقی کا خواب ہمیشہ ادھورا رہتا ہے۔ آج کل پنجاب حکومت کی طرف سے چھوٹے سرکاری ملازمین کے خلاف اینٹی کرپشن ڈیپارٹمنٹ کی کاروائیاں جس تیز رفتار اور جارحانہ انداز میں جاری ہیں، وہ ہمارے معاشرتی اور انتظامی ڈھانچے کے ایک ایسے ہی روایتی تماشے کی یاد دلاتی ہیں جہاں اصل بیماری کا علاج کرنے کے بجائے علامتوں پر ضرب لگائی جاتی ہے۔ پٹواری، کلرک، نائب تحصیلدار، سپاہی، اےایس آئی اور نچلے درجے کے دیگر سرکاری اہلکار جب کرپشن کے الزام میں دھرے جاتے ہیں، تو اسے ایک بڑی کامیابی کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ کیا کرپشن کا یہ گھناؤنا چکر واقعی ان چند نچلے درجے کے ملازمین کی مرہونِ منت ہے، یا پھر اس کے اصل سرچشمے کہیں اور پوشیدہ ہیں؟

اس نازک اور پیچیدہ موڑ پر جب ہم پاکستان میں کرپشن کے حقیقی خدوخال کا جائزہ لیتے ہیں، تو ہمیں سطحی نعرے بازی سے بالاتر ہو کر گہرے فکری لٹریچر کا مطالعہ کرنا پڑتا ہے۔ اس تناظر میں ریپبلک پالیسی (Republic Policy) کی حال ہی میں شائع ہونے والی طارق محمود اعوان کی معرکہ آر کتاب The Bureaucratic Coup نے پاکستان میں کرپشن کی جو چار سطحی ساخت بیان کی ہے، وہ اس پورے نظام کو سمجھنے کے لیے ایک چشم کشا دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے۔ اگر ہم اس کتاب کے فکری تجزیے کو بنیاد بنائیں تو ہمیں اندازہ ہوگا کہ پاکستان میں کرپشن انفرادی فعل نہیں بلکہ ایک باقاعدہ اور منظم ڈھانچہ ہے جس کی جڑیں چار مختلف تہوں میں پیوست ہیں۔

اس چار سطحی ساخت کی پہلی قسم نان ڈیولپمنٹل پبلک بجٹ کی کرپشن ہے۔ بیوروکریسی اور سرکاری مشینری اس........

© Daily Urdu