Kya Supreme Court Ne Siasi Jamood Torne Ki Raah Khol Do Hai?
کیا سپریم کورٹ نے سیاسی جمود توڑنے کی راہ کھول دی؟
پاکستان نے ہر چند سال بعد اقتدار کی کھینچ تان، آئینی بحرانوں اور شدید سیاسی قطبیت کا سامنا کیا ہے۔ لیکن گزشتہ چار سالوں کے دوران جو سیاسی جمود، بے چینی اور ادارہ جاتی تصادم دیکھنے میں آیا ہے، اس کی مثال ملکی تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔ سنہ 2022 کے بعد سے پیدا ہونے والی سیاسی خلیج نے نہ صرف قومی یکجہتی کو شدید نقصان پہنچایا بلکہ معاشی استحکام، عوامی اعتماد اور جمہوریت کی روح کو بھی گہرے زخم دیے۔ سیاسی حریفوں کے درمیان مذاکرات اور افہام و تفہیم کے راستے یکسر بند ہو گئے اور سیاست کا میدان آئینی دائرہ کار کے بجائے ذاتی انا، انتقام اور قانونی کشمکش کا شکار ہو کر رہ گیا۔ اس تشویشناک ماحول کا سب سے المناک پہلو یہ رہا کہ سیاسی تنازعات کا تمام تر بار ریاست اور اس کے آئینی اداروں، بالخصوص عدالتوں پر ڈال دیا گیا، جس سے پبلک سپیس میں مسلسل غیر یقینی کی فضا قائم رہی۔
اس طویل سیاسی بحران کا مرکزی نقطہ پاکستان تحریک انصاف کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی قید و بند کا معاملہ رہا ہے۔ ان پر قائم درجنوں مقدمات، زیرِ التوا اپیلیں اور جیل کے اندر ان کی دیکھ بھال کی صورت حال گزشتہ کئی ماہ سے قومی بحث کا حصہ بنی ہوئی ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ جب بھی کسی معروف سیاسی رہنما کو قید میں رکھا جاتا ہے تو اس کی صحت، حفاظت اور بنیادی آئینی حقوق کا تحفظ محض ایک فرد کا مسئلہ نہیں رہتا، بلکہ وہ ریاست کے امیج اور ملک کی سیاسی فضائے بسیط پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔ دستورِ پاکستان کا آرٹیکل 9 اور 14 ہر شہری کو زندگی، آزادی اور انسانی وقار کی ضمانت دیتا ہے، چاہے وہ آزاد فضاؤں میں سانس لے رہا ہو یا پسِ دیوارِ زنداں ہو۔ لیکن افسوسناک امر یہ رہا کہ گزشتہ ڈیڑھ سے دو سال کے دوران قیدیوں کے طبی حقوق اور ملاقاتوں کو اکثر سیاسی داؤ پیچ کا ذریعہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں نہ صرف عوام میں بددلی پھیلی بلکہ بیرونِ ملک بھی ملک کے عدالتی و انتظامی نظام پر سوالات اٹھنے لگے۔
اسی پس منظر میں آج سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحت سے متعلق ایک انتہائی اہم اور تاریخی سماعت سامنے آئی ہے۔ سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ جس میں جسٹس شاہد وحید صاحب، جسٹس نعیم اختر افغان صاحب اور جسٹس اشتیاق ابراہیم صاحب شامل تھے نے اس معاملے پر جس جرأت، اصول پسندی اور باریک بینی کا مظاہرہ کیا ہے، اس نے ملک کے جاری سیاسی جمود کو پگھلانے کی طرف ایک قوی اور امید افزا اقدام کی........
