Masoomiyat Ke Janaze
دو دن سے سوشل میڈیا، اخبارات و چینلز پر گردش کرنے والی فلسطین کی ایک تصویر نے دل کو خون کے آنسو رونے پر مجبور کر دیا ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ عالمی دنیا کے ضمیروں کو بھی جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے، ایسا منظر کہ جسے دیکھ کر انسانیت بھی شرما جائے۔ ننھی معصوم بچیاں غزہ کی سرزمین پر آپس میں کھیل کود میں مشغول ہیں اور اپنی گڑیا سے کھیل رہی ہیں اور کھیلتے کھیلتے گویا ان کی گڑیا مر گئی ہے یا زخمی ہوگئی ہے اور وہ معصوم بچیاں اسٹریچر پر اسے رکھ کر اور اپنے سروں پر رکھ کر اسے ہسپتال یا قبرستان لے جانے کی کوششوں میں نظر آ رہی ہیں۔
یہ دلخراش منظر جو کسی بھی انسان کو سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ معصوم بچے جو بچپن میں اپنے کھیل کود میں مصروف رہتے ہیں اور خاص طور پر بچیاں جو گڑیوں کے ساتھ کھیلنے میں نظر آتی ہیں، لیکن غزہ کے افسوسناک اور دل ہلا دینے والے واقعات اور مناظر نے ان کے ذہنوں پر ایسے انمٹ نقوش چھوڑے ہیں کہ وہ اپنی معصومانہ کھیل کود میں بھی لاشوں اور زخمیوں کو دیکھتے ہیں اور اسی کو اپنا شغل بنائے ہوئے ہیں۔ جبکہ اس کے برعکس ترقی یافتہ معاشروں میں، یا اگر پسماندہ میں چلا جائے تو دنیا میں بچیاں جب گڑیوں کے ساتھ بچپن میں کھیلتی رہتی ہیں تو وہ ان گڑیوں کو دلہن بنانے کی کوششوں میں نظر آتی ہیں اور اسے خوبصورت بنانے کی کوششیں کرتی ہیں........
