12 February Dhaka Election Aur Tawaquat
12 فروری کو پڑوسی ملک بنگلہ دیش میں نئے الیکشن ہونے جا رہے ہیں۔ یہ الیکشن نہ صرف بنگلہ دیش نہیں بلکہ پورے خطے کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل سمجھے جا رہے ہیں، کیونکہ یہ انتخابات ایک غیر معمولی سیاسی پس منظر میں منعقد ہو رہے ہیں۔ شیخ حسینہ کے طویل اقتدار کا تختہ طلبہ عوامی تحریک کے بعد الٹ چکا ہے اور وہ ہندوستان فرار ہوگئی ہیں، جبکہ بنگلہ دیشی عدالت نے انہیں پھانسی دینے کا فیصلہ بھی صادر کر دیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد بنگلہ دیش نے باقاعدہ طور پر ہندوستان سے شیخ حسینہ کی حوالگی کی درخواست کی، جسے ہندوستان نے مسترد کرتے ہوئے نہ صرف انہیں پناہ دی بلکہ اس فیصلے سے دونوں ممالک کے تعلقات میں شدید تناؤ بھی پیدا ہوگیا ہے۔
اس تمام صورتِ حال کے بعد بنگلہ دیش میں ہندوستان مخالف سوچ تیزی سے پروان چڑھ رہی ہے۔ وہ بنگلہ دیش جو آج تک پرو ہندوستان کہلاتا تھا، آج اس کے حالات یکسر بدل چکے ہیں۔ وہاں پوری قوم، خواہ اس کا تعلق کسی بھی سیاسی یا مذہبی تنظیم سے ہو، موجودہ حالات میں ہندوستان مخالف جذبات رکھتی دکھائی دیتی ہے اور اپنے برادر ملک پاکستان کے ساتھ دوستی کی خواہاں ہے۔ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان جو 55 سالہ برف جمی ہوئی تھی، وہ بحمداللہ اب پگھل چکی ہے اور تعلقات کے راستے ہموار ہو رہے ہیں۔
دونوں ممالک کے درمیان ریاستی سطح پر رابطے شروع ہو چکے ہیں، اعلیٰ سطحی ملاقاتیں جاری ہیں اور مختلف معاہدات پر بھی پیش رفت ہو رہی ہے۔ لیکن اصل اور سب سے اہم چیز جودونوں ممالک کا ایک دوسرے کے قریب آنا ہے، وہ محبت اور اپنائیت ہے جو کبھی غلط فہمیوں اور نفرتوں کی نذر ہوگئی تھی، مگر اب ایک بار پھر قربتوں اور الفتوں میں تبدیل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ عوامی سطح پر بھی........
