menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Uranium Ka Imtihan

23 0
16.04.2026

کبھی کبھی تاریخ اپنے آپ کو دہراتی نہیں، صرف اپنے انداز بدل لیتی ہے۔ دنیا میں ایٹمی ہتھیاروں اور حساس نیوکلیئر مواد کے حوالے سے ایک مشہور مثال آج بھی سفارتکاری کی کتابوں میں موجود ہے۔ نوے کی دہائی میں جب سوویت یونین ٹوٹا تو یوکرین، بیلاروس اور قازقستان کے پاس ہزاروں ایٹمی وار ہیڈز موجود تھے۔ اس وقت ایک عالمی معاہدہ ہوا جسے بڈاپسٹ میمورنڈم کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔

اس معاہدے کے تحت ان ممالک نے اپنا نیوکلیئر اسلحہ روس کے حوالے کیا اور بدلے میں انہیں سیکیورٹی گارنٹی دی گئی۔ مقصد یہ تھا کہ ایٹمی مواد غیر محفوظ ہاتھوں میں نہ جائے اور عالمی توازن برقرار رہے۔ یہ دنیا کی سب سے بڑی نیوکلیئر ڈس آرمامنٹ مثالوں میں سے ایک تھی، مگر وقت نے یہ بھی دکھایا کہ ضمانتیں ہمیشہ حفاظت کی ضمانت نہیں ہوتیں، کیونکہ سیاست میں وعدے وقت کے ساتھ اپنی شکل بدل لیتے ہیں۔

یہی تاریخی پس منظر آج کے ایران، امریکہ اور پاکستان کے ممکنہ معاہدے کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے، جہاں ایک بار پھر سوال یہی ہے کہ حساس نیوکلیئر مواد کہاں رکھا جائے اور کس کے پاس رہے۔

اسی پورے معاملے میں ایک بنیادی نکتہ جو اکثر گفتگو میں پس منظر میں چلا جاتا ہے، وہ یورینیم کی افزودگی کی سطح ہے۔ بظاہر یہ ایک تکنیکی اصطلاح ہے، مگر عملی سیاست میں یہی سب سے بڑا فیصلہ کن عنصر بن جاتی ہے۔ جب یورینیم کی افزودگی کم سطح پر ہو تو اسے توانائی اور پرامن مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، لیکن جیسے جیسے یہ سطح بڑھتی ہے، ویسے ویسے اس کی نوعیت بدلتی چلی جاتی ہے۔

عام طور پر جب افزودگی نوے فیصد کے قریب پہنچتی ہے تو اسے اس درجے سے جوڑا جاتا ہے جو ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کے لیے موزوں سمجھا جاتا ہے، کیونکہ نوے فیصد تک افزودگی سے ایٹمی ہتھیار بنتے ہیں۔

اسی تناظر میں ایران کا ساٹھ فیصد افزودہ یورینیم ایک عام ذخیرہ نہیں بلکہ ایک انتہائی حساس سفارتی اور سیکیورٹی سوال بن چکا ہے۔ ساٹھ سے نوے فیصد کا فاصلہ بظاہر محض اعداد کا فرق ہے، مگر عالمی سیاست میں یہی فاصلہ اعتماد اور عدم اعتماد کے درمیان لکیر بن جاتا ہے۔

یہی وہ پیچیدگی ہے جس نے مذاکرات کو ایک نازک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے، جہاں ہر فریق اپنی اپنی سیکیورٹی تشویش کے ساتھ کھڑا ہے اور کسی کو بھی مکمل اعتماد حاصل نہیں۔

دنیا کی سیاست میں کچھ معاملات ایسے ہوتے ہیں جو بظاہر خاموش رہتے ہیں مگر اندر ہی اندر طاقت کے پورے توازن کو ہلا دیتے ہیں۔ یورینیم بھی ایسی ہی کہانی ہے۔ یہ زمین کے سینے میں چھپی ہوئی ایک دھات ہے مگر اس کے اثرات زمین کے اوپر عالمی طاقتوں کے اعصاب پر محسوس کیے جاتے ہیں۔

یہ ساری کہانی اس وقت مزید اہم ہو جاتی ہے جب مذاکرات کی ایک میز پاکستان میں لگتی ہے۔ ایک طرف امریکہ ہے، دوسری طرف ایران ہے اور درمیان میں پاکستان۔ بظاہر یہ سفارتی گفتگو ہے مگر حقیقت میں یہ اعتماد، خوف، شک اور طاقت کا ایسا کھیل ہے جس میں ہر لفظ ناپ تول کر بولا جا رہا ہے اور ہر خاموشی اپنے اندر ایک معنی رکھتی ہے۔

ان مذاکرات میں کئی ایسے نکات ہیں جن پر پیش رفت ہوئی ہے۔ آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی، خطے میں کشیدگی میں کمی اور بعض تکنیکی معاملات پر اتفاق رائے کی خبریں سامنے آ رہی ہیں۔ لیکن ان سب کے باوجود ایک مسئلہ ایسا ہے جو ہر پیش رفت کے آگے دیوار بن کر کھڑا ہو جاتا ہے اور وہ مسئلہ ہے ایران کے پاس موجود ساٹھ فیصد افزودہ یورینیم کا مستقبل۔

یہ وہ نکتہ ہے جہاں سے ساری سیاست کا اصل امتحان شروع ہوتا ہے۔ کیونکہ ساٹھ فیصد افزودہ یورینیم عام صنعتی مواد نہیں ہوتا۔ یہ وہ سطح ہے جو ایٹمی ہتھیار کے قریب سمجھی جاتی ہے۔ ایران اسے اپنے حق اور خودمختاری کا حصہ قرار دیتا ہے جبکہ امریکہ اسے عالمی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھتا ہے۔

یورینیم خود کیا ہے، یہ سمجھنا بھی ضروری ہے۔ یہ زمین کے اندر پائی جانے والی ایک قدرتی دھات ہے جو لاکھوں سال پرانے ارضیاتی عمل کے نتیجے میں وجود میں آئی۔ اسے زمین سے نکالنے کا عمل کان کنی کہلاتا ہے مگر یہ عام کان کنی نہیں ہوتی۔ کہیں کھلی کانیں ہوتی ہیں، کہیں زمین کے اندر گہری سرنگیں اور کہیں ایسا طریقہ استعمال کیا جاتا ہے جس میں کیمیکل کے ذریعے زمین کے اندر ہی سے مواد کو الگ کیا جاتا ہے۔ یہ ایک انتہائی حساس اور کنٹرول شدہ صنعتی عمل ہے کیونکہ یہ صرف ایک دھات نہیں بلکہ ایک اسٹریٹجک مواد ہے۔

دنیا میں یورینیم چند مخصوص ممالک میں پائی جاتی ہے۔ قازقستان آج دنیا کا سب سے بڑا پیدا کرنے والا ملک سمجھا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ آسٹریلیا کے پاس سب سے بڑے قدرتی ذخائر ہیں۔ کینیڈا اعلیٰ معیار کی یورینیم پیدا کرتا ہے۔ روس اس پورے شعبے میں ایک بڑی نیوکلیئر طاقت کے طور پر موجود ہے۔ نائجر اور نمیبیا افریقہ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں جبکہ ازبکستان وسطی ایشیا میں نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔ پاکستان میں بھی محدود ذخائر موجود ہیں خصوصاً ڈیرہ غازی خان کے علاقے میں، مگر یہ ذخائر عالمی پیمانے پر بڑے نہیں سمجھے جاتے۔

یورینیم کا استعمال دو بڑے حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ ایک طرف توانائی ہے اور دوسری طرف دفاع۔ توانائی کے شعبے میں یہ نیوکلیئر فشن کے عمل کے ذریعے استعمال ہوتی ہے۔ اس عمل میں یورینیم کے ایٹم ٹوٹتے ہیں، جس سے بہت زیادہ حرارت پیدا ہوتی ہے۔ یہ حرارت پانی کو بھاپ میں تبدیل کرتی ہے، وہ بھاپ ٹربائن کو چلاتی ہے اور پھر بجلی پیدا ہوتی ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ بہت کم مقدار میں یورینیم سے بہت بڑی مقدار میں توانائی حاصل کی جا سکتی ہے۔ اسی لیے اسے مستقبل کا اہم توانائی ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔

لیکن اسی عمل کا دوسرا رخ ایٹمی ہتھیار ہے۔ جب یورینیم کو زیادہ افزودہ کیا جائے تو یہ توانائی نہیں بلکہ تباہی کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں سائنس اور سیاست ایک دوسرے میں مدغم ہو جاتی ہیں اور ایک دھات عالمی طاقتوں کے درمیان کشمکش کی علامت بن جاتی ہے۔

پاکستان میں ہونے والے مذاکرات کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہوگئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق کئی بنیادی نکات پر پیش رفت ہو چکی ہے۔ آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی کے لیے ایک فریم ورک پر بات آگے بڑھ رہی ہے۔ خطے میں کشیدگی کم کرنے پر بھی فہم و فراست دکھائی گئی ہے۔ لیکن اصل رکاوٹ اب بھی وہی ایک سوال ہے کہ ایران کے ساٹھ فیصد افزودہ یورینیم کا کیا کیا جائے گا۔

یہاں سے اصل سفارتی بحران جنم لیتا ہے۔ کچھ عرصہ پہلے روس نے ایک تجویز دی تھی کہ ایران اپنا افزودہ یورینیم روس کے پاس محفوظ رکھ دے اور جب عالمی پابندیاں ختم ہوں تو اسے واپس لے لے۔ بظاہر یہ ایک درمیانی حل تھا مگر امریکہ نے اسے قبول نہیں کیا۔ اس کے پیچھے یہ خدشہ تھا کہ اس طرح طاقت کا توازن روس کے حق میں چلا جائے گا اور ایک اور حساس اثاثہ اس کے کنٹرول میں آ جائے گا۔

اب ایک نیا امکان زیر بحث ہے کہ پاکستان اس عمل میں کردار ادا کر سکتا ہے۔ ایران کے لیے پاکستان جغرافیائی طور پر بھی قریب ہے اور سیاسی طور پر نسبتاً قابل اعتماد سمجھا جاتا ہے۔ امریکہ بھی پاکستان کو روس کے مقابلے میں زیادہ غیر متنازع آپشن کے طور پر دیکھ سکتا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کو یہ ذمہ داری قبول کرنی چاہیے۔

اگر ایران کا افزودہ یورینیم پاکستان کے پاس آتا ہے تو یہ محض ایک تکنیکی معاملہ نہیں رہے گا۔ یہ ایک انتہائی حساس اسٹریٹجک بوجھ بن جائے گا۔ اس کی حفاظت عام سیکیورٹی نظام سے ممکن نہیں ہوگی۔ اس کے لیے خصوصی انفراسٹرکچر، مسلسل نگرانی، جدید انٹیلی جنس نظام اور بین الاقوامی سطح کی شفافیت درکار ہوگی۔ ذرا سی کوتاہی بھی عالمی سطح پر بڑے بحران کو جنم دے سکتی ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ سفارتی دباؤ بھی بڑھ جائے گا۔ پاکستان ہر وقت عالمی طاقتوں کی توجہ کے مرکز میں رہے گا۔ کسی بھی ممکنہ سیکیورٹی واقعے کی صورت میں پہلا سوال پاکستان سے کیا جائے گا اور اگر مستقبل میں ایران اور امریکہ کے درمیان دوبارہ تناؤ بڑھتا ہے تو پاکستان غیر ارادی طور پر اس تنازع کے درمیان آ جائے گا۔

اصل مسئلہ یہ بھی ہے کہ یورینیم کی منتقلی خود ایک انتہائی نازک عمل ہے۔ یہ عام ٹرانسپورٹ نہیں ہوتی۔ اس میں خصوصی کنٹینرز، سخت سیکیورٹی پروٹوکول، خفیہ راستے اور مسلسل نگرانی شامل ہوتی ہے۔ ایک چھوٹی سی غلطی بھی صرف سفارتی بحران نہیں بلکہ ممکنہ طور پر عالمی سیکیورٹی بحران پیدا کر سکتی ہے۔

پاکستان کے لیے دانشمندی یہی ہے کہ وہ اس پورے عمل میں سہولت کار کا کردار ادا کرے مگر کسی بھی صورت میں اس مواد کی جسمانی ذمہ داری نہ لے۔ کیونکہ دنیا کی سیاست میں بعض اوقات راستے میں کھڑا ہونا آسان ہوتا ہے مگر بوجھ اٹھانا ہمیشہ خطرناک ثابت ہوتا ہے۔

یہ معاملہ صرف یورینیم کا نہیں بلکہ اعتماد، طاقت اور مستقبل کے توازن کا ہے اور ایسے معاملات میں غلط فیصلہ اکثر فوری نہیں بلکہ دیرپا نتائج دیتا ہے۔ شاید تاریخ اسی بات کو زیادہ سادہ انداز میں لکھے گی کہ بعض اوقات سب سے بڑا فیصلہ یہ ہوتا ہے کہ آپ نے کیا قبول نہیں کیا۔


© Daily Urdu