menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Madina Al Zahra Ka Aik Gumnaam Kaatib

18 0
21.07.2026

مدینۃ الزہرہ کا ایک گمنام کاتب

رات گہری ہو چکی ہے اور مدینۃ الزہرہ کے قصرِ خلافت کی شمعیں ایک ایک کرکے بجھ رہی ہیں۔ باہر، قرطبہ کی ٹھنڈی ہواؤں میں فتح کے نقارے اب بھی کہیں دور گونجتے محسوس ہوتے ہیں، لیکن اس وسیع اور پرسکون خواب گاہ میں، میں بالکل تنہا ہوں۔ میرے بستر کے سرہانے وہ مقدس قرآن رکھا ہے جسے میں نے اپنے ہاتھوں سے لکھا تھا اور دوسری طرف میری وہ پرانی زرہ ہے جس پر اندلس کے شمال کی پچاس سے زیادہ جنگوں کی مٹی اب تک جمی ہوئی ہے۔

میرے قاصد ہر مہم کے بعد میدانِ جنگ کی مٹی ایک برتن میں جمع کیا کرتے تھے۔ آج میں نے وہ برتن اپنے سامنے رکھا ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ یہ مٹی میری وصیت کے مطابق میری قبر میں میرے ماتھے کے نیچے رکھی جائے گی، تاکہ خدا کی عدالت میں یہ گواہی دے سکے کہ میں نے اپنی پوری زندگی کفر کے ایوانوں کو لرزانے میں گزار دی۔ میں اس وقت چونسٹھ برس کا ہو چکا ہوں اور میرا جسم اس آخری مہم کی تھکن اور علالت سے چور ہے۔ ڈاکٹر کہتے ہیں کہ میری نبض ڈوب رہی ہے، لیکن میرا ذہن ماضی کے ان دھندلکوں میں اتر رہا ہے جہاں ایک معمولی کاتب نے تاریخ کے رخ کو موڑ دیا تھا۔

میں بنو امیہ کے کسی شاہی خاندان میں پیدا نہیں ہوا تھا، نہ ہی میرے پاس کوئی موروثی جاگیر تھی۔ میری شروعات قرطبہ کی گلیوں میں ایک ایسے معمولی طالب علم کے طور پر ہوئی تھی جس کا کل سرمایہ اس کا قلم اور اس کا عزم تھا۔ میں نے قرطبہ کی جامع مسجد میں بلاغت، قانون اور عربی ادب کی تعلیم حاصل کی۔ میری خوش نویسی اور فصاحت کی وجہ سے مجھے قرطبہ کے شاہی دربار کے دارالترجمہ اور قضا میں ایک ادنیٰ کاتب (Court Scribe) کی نوکری مل گئی۔

وہاں، شاہی محل کے برآمدوں سے گزرتے ہوئے، جب میں اندلس کے اموی خلیفہ الحکم ثانی کے جاہ و جلال کو دیکھتا، تو میرے اندر ایک........

© Daily Urdu