Taqat Ke Baghair Mazhab
جب آپ یہ کالم پڑھ رہے ہوں گے تب مشرقِ وسطیٰ کی فضا نئے دھماکوں سے گونج رہی ہوگی۔ وہی دنیا جو کل تک امن، انسانی حقوق اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری کے وعظ دے رہی تھی آج طاقت کے سامنے خاموش کھڑی ہے۔ پورا مشرقِ وسطیٰ اور خلیجی ریاستیں یا تو کھل کر امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ کھڑی ہیں یا خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں۔ عوامی سطح پر اضطراب ضرور ہے مگر ریاستی سطح پر کوئی واضح مزاحمت دکھائی نہیں دیتی۔ یہ خاموشی اس بات کا ثبوت ہے کہ طاقت کا توازن یکطرفہ ہو چکا ہے۔ جب قوت ایک طرف مرتکز ہو جائے تو سب آوازیں مدھم پڑ جاتی ہیں۔
تاریخ کبھی مائیک پکڑ کر تقریر نہیں کرتی، وہ عدالت لگاتی ہے اور فیصلے سنانے کے بعد، انہیں وقت کے ماتھے پر کندہ کر دیتی ہے۔ وہ چیختی نہیں، مگر اس کے لکھے ہوئے لفظ صدیوں تک گونجتے رہتے ہیں۔ حالیہ ایران تنازع میں بھی تاریخ نے زمانے کی پیشانی پر ایک نا مٹنے والی تحریر رقم کی ہے، وہ یہ کہ جو قومیں قوت و طاقت سے تہی دست ہوتی ہیں خواہ نعروں اور نظریات میں کتنی ہی بلند کیوں نہ ہوں میدانِ عمل میں نیست و نابود کر دی جاتی ہیں۔ وہ قومیں جن کے ہاتھ میں صرف جذبات ہوں، جن کے زور بازو میں دم نہ ہو وہ عالمی سیاست کے طوفانوں میں اسی طرح بہا دی جاتی ہیں۔
تاریخ نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ کمزور کی صداقت بھی بے وزن ہو تی ہے اور طاقتور کا جھوٹ بھی قانون بن جاتا ہے۔ یہ سب کیا ہے؟ کیا یہ ثابت نہیں کرتا کہ اس دنیا میں الفاظ کی کلیمی اگر طاقت کے عصا سے خالی ہو تو وہ محض بے بنیاد باتیں رہ جاتی ہیں۔ یہاں سچ صرف وہی ہے جس کے پیچھے طاقت اور قوت کھڑی ہے۔ طاقت کے بغیر کوئی نظریہ، کوئی فکر، کوئی مذہب اور کوئی فلسفہ بے معنی ہے۔
محض تصورات اور........
