menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Jism Aur Rooh

66 1
12.01.2026

انسانی وجود ہمیشہ سے اسرار کا ایسا مجموعہ رہا ہے جس کی تہیں کھولنے میں فلسفیوں، مفکروں اور سائنس دانوں نے اپنی زندگیاں کھپا دی ہیں۔ کیا ہم محض گوشت اور ہڈیوں کا ایک متحرک ڈھانچہ ہیں یا ہمارے اس مادی بدن کے پسِ پردہ کوئی ایسی لطیف قوت بھی کارفرما ہے جو ہمیں شعور اور زندگی کی حرارت بخشتی ہے؟

یہ وہ سوال ہے جو صدیوں سے انسانی ذہنوں میں گردش کر رہا ہے۔ حالیہ برسوں میں سائنس اور مابعد الطبیعات کے درمیان حائل دیواریں کسی حد تک گرتی ہوئی محسوس ہو رہی ہیں اور جدید تجربہ گاہوں سے ایسے حقائق سامنے آ رہے ہیں جو ہمیں اس غیر مرئی حقیقت کی طرف لے جاتے ہیں جسے ہم روح کہتے ہیں۔ اس سلسلے میں کینیڈا کی معروف درسگاہ، یونیورسٹی آف کیلگری، جو 29 اپریل 1966 کو اپنے قیام سے لے کر آج تک سائنسی تحقیق کے میدان میں ایک معتبر نام ہے، کے سائنس دانوں نے ایک ایسی حیرت انگیز دریافت کی ہے جس نے علمی دنیا میں ایک نیا ارتعاش پیدا کر دیا ہے۔

یونیورسٹی آف کیلگری کی تحقیق کے مطابق انسانی جسم سے مسلسل ایک مدہم اور لطیف روشنی خارج ہوتی رہتی ہے جسے عام انسانی آنکھ دیکھنے سے قاصر ہے۔ سائنسی اصطلاح میں اس مظہر کو الٹرا ویک فوٹون ایمیشن، (Ultra-Weak Photon Emission) کا نام دیا گیا ہے۔ یہ روشنی اتنی باریک اور دھیمی ہوتی ہے کہ اسے صرف مخصوص اور انتہائی حساس آلات کے ذریعے ہی محسوس کیا جا سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ روشنی انسانی جسم کے ہر خلیے سے ایک خاص ترتیب کے ساتھ نکلتی ہے، جیسے کوئی شمع ہو جو مسلسل فروزاں ہو۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ روشنی ساکن نہیں رہتی بلکہ انسانی کیفیات کے ساتھ اپنا رنگ اور شدت بدلتی رہتی ہے۔

تجربات کے دوران یہ مشاہدہ کیا گیا ہے کہ جب انسان شدید ذہنی تناؤ، اضطراب یا ڈپریشن کی حالت میں ہوتا ہے تو اس کے جسم سے خارج ہونے والی اس روشنی کی چمک غیر معمولی........

© Daily Urdu