menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Irshad Ahmad Bhi Sath Chor Gaya

19 0
19.03.2026

ارشاد احمد بھی ساتھ چھوڑ گیا

20 فروری کو آخری بار اس سے میسیجنگ ہوئی۔ میں کچھ کاغذات تلاش کر رہا تھا کہ پرانی تصاویر ہاتھ لگیں، ان میں ارشاد کا تیس سال پرانا، ہنستا مسکراتا چہرہ بھی تھا۔ میں نے اسی لمحے وہ تصویر اسے واٹس ایپ کر دی۔ پھر کیا تھا، تین دہائیاں پہلے کے دورۂ روس کی یادیں یوں تازہ ہوئیں جیسے کل کی بات ہو۔ ارشاد کے آخری وائس نوٹس آج بھی میرے پاس محفوظ ہیں، مگر وہ آواز، جو اب پیوندِ خاک ہو چکی ہے، دوبارہ کبھی سنائی نہیں دے گی۔

آج سہ پہر ارشاد احمد کے نمبر سے ایک وائس نوٹ کی بیپ آئی۔ میں نے سمجھا، حسبِ معمول کوئی ہلکا پھلکا، ٹھٹھے مخول والا پیغام ہوگا۔ دل میں خیال آیا کہ ابھی کھولوں گا تو اس کی وہی کھنکتی آواز سنائی دے گی:

"سرکار" اس کا تکیہ کلام تھا، ہم دونوں اپنے مرحوم دوست فرحت حسین شاہ کی یاد میں یہ لفظ بولا کرتے تھے۔ اصل میں یہ شاہ صاحب کا تکیہ کلام تھا اور ان کے جانے کے بعد ہم نے اسے اپنی گفتگو کا حصہ بنا لیا تھا۔ "سرکار" کا تکیہ کلام بعد میں میرے اور فرحت شاہ صاحب کے دوسرے دوست ڈاکٹر ظفر اقبال نے بھی اپنا لیا، جو اب سی ڈی اے میں ڈی جی پلاننگ ہیں۔

مگر جب میسیج کھولا تو ایک لرزتی ہوئی آواز سنائی دی، ارشاد کے بیٹے کی آواز۔ ایک لمحے کے ہزارویں حصے میں سب کچھ........

© Daily Urdu