menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Dawn Ke Ashar Rehman Se Murree Ki Sahafat Tak

17 0
27.05.2026

ڈان کے اشعر رحمٰن سے مری کی صحافت تک

انیس سو ترانوے کا واقعہ ہے۔ میں لاہور میں اپنے ایک گم گشتہ اسکول فیلو اشعر رحمان کو ڈھونڈ رہا تھا، جس سے میری آخری ملاقات تقریباً پندرہ برس قبل، یعنی 1978 میں ہوئی تھی، جب وہ والد کی ٹرانسفر پہ اسلام آباد اسکول چھوڑ کر لاہور منتقل ہوگیا تھا۔ بہت جستجو کے بعد میں 5 ٹیمپل روڈ پر اس کے گھر پہنچا جو ریگل چوک کے قریب واقع تھا۔ گھنٹہ بھر ہم پرانی یادوں میں کھوئے رہے۔ اسی دوران میری نظر دیوار پر آویزاں ایک تصویر پر پڑی۔ میں نے اشعر سے پوچھا، "یہ کون ہیں؟"

لمبی زلفوں والے اشعر نے نہایت سادگی سے جواب دیا، "یہ میرے والد صاحب ہیں، آئی اے رحمان"۔

یہ سن کر میں چند لمحوں کے لیے ساکت رہ گیا۔ میرے لیے یہ ایک حیرت انگیز انکشاف تھا کہ میرا اسکول فیلو ایک ایسی علمی و صحافتی شخصیت کا بیٹا ہے جس کا نام پورے ملک میں دانش، شائستگی اور فکری وقار کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ مجھے اندازہ ہی نہ تھا کہ میرا دوست ایک ایسے گھرانے سے تعلق رکھتا ہے جہاں لفظوں کی حرمت کو عبادت کا درجہ حاصل ہے۔

پندرہ برس بعد کی اس ملاقات کے بعد اشعر مجھے اپنے دفتر لے گیا۔ وہ اس زمانے میں ڈان نیوز سے وابستہ تھا اور بعد ازاں ڈان لاہور کا ریذیڈنٹ ایڈیٹر بھی بنا۔ جب میں نیوز روم میں داخل ہوا تو میرے لیے وہ منظر کسی یونیورسٹی یا علمی درسگاہ سے کم نہ تھا۔ صحافی آپس میں ایک ایک لفظ پر بحث کر رہے تھے۔ کسی لفظ کے تاریخی پس منظر پر گفتگو ہو رہی تھی، کسی اصطلاح کے صحیح مفہوم پر۔ خبر محض لکھی نہیں جا رہی تھی بلکہ تراشی جا رہی تھی، جیسے کوئی سنار زیور تراشتا ہے۔

یہ وہ دور تھا جب نہ مصنوعی ذہانت تھی، نہ گوگل سرچ، نہ موبائل فون کی فوری سہولتیں۔ اگر کسی لفظ کا ماخذ جاننا ہوتا تو آکسفورڈ ڈکشنری کھولی جاتی، یا کسی سینئر صحافی کی دانش سے رجوع کیا جاتا۔ اسی روز واشنگٹن پوسٹ میں شائع ہونے والا ایک نیا لفظ وہاں زیرِ بحث تھا۔ اشعر اور اس کے ساتھی اس لفظ کو اردو صحافت کے........

© Daily Urdu