menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Sach Wo Roshni Hai Jo Andheron Se Nahi Darti

30 0
28.06.2026

سچ وہ روشنی ہے جو اندھیروں سے نہیں ڈرتی

شام کے سائے جب رینگتے ہوئے دھرتی کے وجود کو اپنے تیرہ و تار حصار میں لینے لگے تو وقت کی بساط پر پھیلی اداسی ایک اجڑے ہوئے ریلوے اسٹیشن کے سنسان پلیٹ فارم پر مجسم ہو کر بیٹھ گئی۔ ہواؤں میں اک غریب الوطنی کا احساس تھا اور فضائے بسیط میں سکوت کا راج تھا۔ دور اک کہنہ مشق، لرزتے اور جِیران کھمبے کے سرے پر نصب زرد بلب اپنی نیم جاں لو کے ساتھ ٹمٹما رہا تھا ایک ایسا چراغِ شب مشت خاک کی مانند، جس کی بساط اتنی نہ تھی کہ وہ کائنات کے اس وسیع و عریض دامن کو یکسر منور کر سکےمگر اس کی جراتِ رندانہ کا عالم یہ تھا کہ وہ اپنی تمام تر بے مائیگی کے باوجود ظلمتِ شب کے سامنے سپر انداز ہونے پر کسی طور آمادہ نہ تھا۔

اسی الم ناک مگر سحر انگیز منظر نامے کے پسِ منظر میں شکستہ پٹریوں کے قریب بندن میاں اپنے اندر اک جہانِ معنی سموئے تشریف فرما تھےجن کی پیشانی کی لکیریں بیتے ہوئے زمانوں کی مسافتوں اور تجربوں کی فصاحت بیان کر رہی تھیں۔ میں نے خاموشی کے اس طلسم کو توڑنے اور ان کے باطن کے سمندر سے کچھ موتی چرانے کی غرض سے ان کے پہلو میں جگہ سنبھالی اور نہایت شگفتگی و احترام سے دھیمے لہجے میں سوال کیا کہ میاں اس زوال پذیر شام کے دھندلکے میں آپ کا ذہنِ رسا کن وادیوں کی سیاحت میں مصروف ہے اور آپ ان ویرانیوں میں کیا سوچ رہے ہیں؟

انہوں نے اپنی صوفیانہ اور گہری نظریں اس ناتواں بلب پر جمائیں ان کے لبوں پر اک باوقار اور معنی خیز مسکراہٹ ابھری اور وہ دھیمی مگر سحر انگیز آواز میں گویا ہوئے کہ فرزند میں اس بے جان شیشے کے قمقمے کی ریاضت کو دیکھ رہا ہوں اور سوچ رہا ہوں کہ کائنات میں سچائی کا وجود بھی تو بالکل اسی بلب کی مانند ہوتا ہے جو بظاہر اکیلا، نحیف، ناتواں اور تنہا دکھائی دیتا ہے جسے مصلحتوں کے طوفان بجھانے کی پیہم کوشش کرتے ہیں مگر اس کے خمیر میں خوف کا کوئی عنصر نہیں ہوتا وہ اندھیرے کی ہیبت سے مرعوب ہوئے بغیر اپنی جنگ جاری رکھتا ہے اور یہی اس کا کل اثاثہ ہے۔ یہ جملہ ادا کرنے کے بعد وہ دوبارہ اسی گہرے سکوت کے سمندر میں اتر گئےمگر ان کی اس خاموشی کی تہوں میں صدیوں کا درد، انسانی تاریخ کے المیے اور معرفت کے لازوال فلسفے پوشیدہ تھے جو کسی لفظی بیان کے محتاج نہ تھے۔

بندن میاں نے تھوڑی دیر بعد اپنی بات کا سلسلہ وہیں سے جوڑتے ہوئے ریشم جیسے ملائم مگر فولاد جیسے پختہ لہجے میں ارشاد فرمایا کہ میاں زادے اس کارگاہِ حیات میں انسان نے مادی اشیاء کو بہت گراں قدر سمجھ رکھا ہے لیکن یاد رکھو کہ دنیا کی سب سے مہنگی، نایاب اور بیش قیمت شے سونا، چاندی، ہیرے یا زرو جواہرات نہیں ہیں بلکہ کائنات کا سب سے گراں مایہ جوہر صرف اور صرف "سچ" ہے کیونکہ قدرت نے اسے وہ رفعت دی ہے کہ اسے دنیا کے تمام خزانوں کے عوض بھی خریدا نہیں جا سکتا اور اگر کوئی نادان دنیاوی جاہ و حشم کے بدلے اپنے اندر کے سچ کو بیچ ڈالے تو یہ انسانیت کی توہین اور بقائے باہمی کا سب سے بڑا خسارہ ہے جس کا مداوا ممکن نہیں۔

ان کی یہ حکیمانہ گفتگو سنتے ہی میرے ذہن کے دریچوں میں ان کے ایامِ طفولیت کا وہ سدا بہار واقعہ روشن ہوگیا جو وہ اکثر فخر اور دردمندی کے ملے جلے جذبات کے ساتھ سنایا کرتے تھے کہ جب وہ اسکول کے ابتدائی درجوں میں زیرِ تعلیم تھےتو ایک روز کھیل ہی کھیل میں صنفِ نازک کی مانند حساس اور نازک کلاس کا شیشہ ٹوٹ کر بکھر گیا جس پر مدرسِ اعلیٰ نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے پوری جماعت کو سزا کے طور پر کھڑا کر دیا اگرچہ جماعت کا ہر طالب علم اس حقیقت سے بخوبی واقف تھا کہ اس تخریب کاری کا مرتکب کون ہے مگر مصلحت پسندی، خوف اور یاری باشی کے بوجھ تلے دبے ہوئے وہ معصوم ذہن ہونٹ سیے بیٹھے رہے تب بندن میاں کے اندر کی معصومیت اور حق گوئی نے انگڑائی لی اور انہوں نے بلا خوفِ لومۃ لائم سچائی کا پرچم بلند کرتے ہوئے اصل صورتحال واضح کر دی جس کا فوری نتیجہ یہ نکلا کہ حقیقی قصوروار تو اپنی چرب زبانی یا مصلحت کی بنا پر سزا سے بچ گیا مگر ان کے ہم جماعت ساتھیوں نے اس حق گوئی کو مخبری پر محمول کرتے ہوئے مہینوں ان سے قطع تعلق کر لیا اور وہ اپنی ہی بستی میں تنہا رہ گئے۔

میں نے ایک دفعہ ماضی کی اس ورق گردانی پر ان سے الہامی سوال کیا تھا کہ میاں اس قدر مخالفت اور تنہائی کے باوجود آپ نے وہ تلخ سچ کیوں بولا تھا جبکہ خاموشی آپ کو اس معاشرتی عتاب سے بچا سکتی تھی؟ تو انہوں نے اپنی خوبصورت سفید داڑھی کو چھوتے ہوئے ایک ایسی دلنشین مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا تھا جس کی چمک آج بھی میرے دل میں محفوظ ہے کہ برخوردار مجھے دن کے اجالے میں انسانوں کی جھوٹی ستائش، منافقانہ تالیوں اور مصلحت آمیز تعریفوں کے ہجوم کے ساتھ نہیں جینا تھا بلکہ مجھے اندھیری رات کی خلوتوں میں اپنے ملامت گر ضمیر کے ساتھ پرسکون نیند سونا تھا اور ضمیر کی عدالت میں سرخروئی صرف سچ کے ہی راستے سے حاصل ہوتی ہے۔

آج جب میں بندن میاں کے ان افکار کی روشنی میں اپنے ارد گرد پھیلے ہوئے معاصر معاشرے کی اخلاقی گراوٹ اور فکری انحطاط پر نظر دوڑاتا ہوں تو روح کانپ اٹھتی ہے اور........

© Daily Urdu