menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Doosron Ko Jeene Dein

13 1
04.02.2026

ہم ایک ایسے معاشرے میں سانس لے رہے ہیں جہاں سب کو بولنے کا حق ہے، مگر جینے کا حق کم ہی دیا جاتا ہے۔ یہاں ہر شخص خود کو منصف سمجھتا ہے، ہر آنکھ دوسرے کی زندگی پر لگی ہے اور ہر زبان فیصلے سنانے میں مصروف۔ کوئی کیسے جیتا ہے، کیوں جیتا ہے، کس کے ساتھ جیتا ہے، یہ سب جیسے عوامی معاملہ بن چکا ہے۔

دوسروں کو جینے دینا بظاہر ایک سادہ سا جملہ ہے، مگر حقیقت میں یہ ایک مشکل اخلاقی امتحان ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ہم اس بات کو قبول کریں کہ ہر انسان ہماری طرح نہیں سوچتا، ہماری طرح فیصلے نہیں کرتا اور نہ ہی ہماری زندگی کے سانچے میں فٹ بیٹھتا ہے۔ اختلاف کو دشمنی سمجھے بغیر قبول کرنا ہی اصل برداشت ہے۔

ہم اکثر خیر خواہی کے نام پر مداخلت کرتے ہیں۔ "میں تو تمہارے بھلے کے لیے کہہ رہا ہوں" ایک ایسا جملہ ہے جو بے شمار زندگیوں کو گھٹن میں مبتلا کر دیتا ہے۔ ہر نصیحت ضروری نہیں، ہر رائے قابلِ اطلاق نہیں اور ہر خاموشی کمزوری نہیں ہوتی۔ بعض اوقات کسی کو جینے دینے کا مطلب صرف اتنا ہوتا ہے کہ ہم پیچھے ہٹ جائیں۔

معاشرتی زوال کی ایک بڑی وجہ یہی ہے کہ ہم دوسروں کے انتخاب کو اپنا مسئلہ بنا لیتے ہیں۔ عورت کیا پہنے، مرد کیا کمائے، نوجوان کیسے سوچے، بزرگ کیسے جئیں، سب کے لیے غیر اعلانیہ ضابطے موجود ہیں۔ ان ضابطوں سے ہٹنے والا فوراً تنقید، طعنہ اور تنہائی کا شکار ہو جاتا ہے۔

دوسروں کو جینے دینا ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ کنٹرول چھوڑنا بھی ایک اخلاقی قوت ہے۔ یہ سکھاتا ہے کہ........

© Daily Urdu