menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Budget, Imf Aur Wo Sawal Jo Pooche Nahi Jaate

36 0
07.06.2026

بجٹ، آئی ایم ایف اور وہ سوال جو پوچھے نہیں جاتے

وفاقی بجٹ کی مناسبت سے کئی دن سے ٹی وی اسکرینوں، اخبارات اور سوشل میڈیا پر بھانت بھانت کی بحثیں جاری ہیں۔ کس پر کونسا نیا ٹیکس لگے گا؟ سرکاری ملازمین کی تنخواہیں کتنی بڑھیں گی؟ تنخواہ دار طبقے اور دستاویزی شعبوں کو کونسی نئی شامت کا سامنا ہوگا؟ ہر سال بڑھتے ریونیو ٹارگٹس اور ان سے زیادہ تیزی سے بڑھتے ہوئے اخراجات کا نزلہ کہاں کہاں گرے گا؟ آئی ایم ایف کے اس بار کیا تقاضے ہیں؟

یہ تمام سوال اپنی جگہ اہم ہیں لیکن ان سوالوں میں الجھ کر ہمیشہ کی طرح اس بار بھی ہم "بیماری" سے زیادہ اس کی "علامات" کی طرف متوجہ ہیں۔ " بخار" پر بحث ہو رہی ہے، "بخار" کی وجہ پر نہیں۔ بجٹ پر تبصرے ہو رہے ہیں مگر اشرافیائی تسلط یعنی Elite capture پر مبنی اس سیاسی ومعاشی نظام پر کم ہی بات ہوئی ہے جس نے ملک کی معیشت کو اس مقام پر لا کھڑا کیا ہے۔

پاکستان اس وقت ایک ایسے زیاں کار معاشی گھن چکر میں پھنسا ہوا ہے جس سے نکلنے کی دہائی تو بہت دی جاتی ہے مگر راستہ کم ہی تلاش کیا جاتا ہے۔ شرح نمو کم، آبادی بڑھنے کی رفتار زیادہ، برآمدات جمود کا شکار، زرعی وصنعتی پیداواری صلاحیت محدود اور شرح نمو پریشان کن حد تک کم، قرضوں کا بوجھ مسلسل بڑھتا ہوا اور ٹیکس نیٹ کی وہی تنگ دامنی، کرپشن اور سیاسی مفادات پر مبنی ڈویلپمنٹ کا تسلسل۔

اس طرز کی پولیٹیکل اکانومی کا نتیجہ یہ ہے کہ ہر حکومت قومی آمدن کے ذرائع بڑھانے کے بجائے ٹیکس بڑھانے اور معیشت کو وسعت دینے کے بجائے نئے قرض لے کر استحکام کا ڈھنڈورا پیٹ کر شانت اور عوام سے داد طلب رہتی ہے۔

ایسے موقعوں پر سرکاری........

© Daily Urdu