menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Qatal o Gharat Gari Ka Sad e Bab

29 0
22.05.2026

قتل و غارت گری کا سد باب

برطانوی صحافت کے باوا آدم لارڈ کلف خبر کی تعریف کرتے ہیں اگر کتا انسان کو کاٹ لے تو یہ خبر نہیں البتہ انسان نے کتے کو کاٹ لیا تو یہ خبر ہے نامی گرامی ڈکیت، ڈکیتی اور چور چوری کرے تو یہ واقعہ خبر نہیں بنتا معمول کی معلومات سمجھی جاتی ہے، لیکن اگر کوئی پولیس آفیسر معمولی بات پر تین افراد کا قتل کر دے تو یہ محض خبر ہی نہیں بڑا سانحہ ہوگا، پولیس ہی کو تو عوام کا محافظ سمجھا جاتا ہے، طرح طرح کے مجرموں سے پولیس کا واسطہ پڑتا ہے، گمان ہے کہ اس سے انکی قوت برداشت بڑھ جاتی ہے اور جلد آپے سے باہر نہیں ہوتے۔

جبکہ گذشتہ دنوں تاندلیاوالہ کے نواحی گاؤں میں سابق پولیس آفیسر کے ہاتھوں معمولی تنازع پر تین افراد کا قتل ہونا کچھ اور ہی پیغام دے رہا ہے، ذرائع کے مطابق کھیت میں جانوروں کے داخل ہونے سے دو برادریوں کے مابین تو تکرار کا معاملہ جھگڑے کی شکل اختیار کر گیا، جس کا منطقی انجام قتل کی صورت میں ہوا۔

مذکورہ واقعہ کے بعد قاتل اور مقتولین کے خاندان کس عذاب سے گزریں گے، اس کا اندازہ اگر انہیں پہلے ہوتا تو شائد معاملہ اس نہج تک نہ پہنچتا، سابقہ پولیس آفیسر جن پر قتل کا الزام ہے جھگڑے کی طوالت کو اگر رکوا دیتے تو اس ناگہانی صورت حال اور ہر طرح کے الزامات سے محفوظ رہتے نجانے انہیں اپنے سابقہ عہدہ کا خمار تھا یا حالات ایسے بن گئے کہ قانون کو ہاتھ میں لینے پر مجبور ہوئے، ان سے بہتر کون جان سکتا تھا کہ عدالتی نظام میں ملزمان کے ساتھ کیا سلوک........

© Daily Urdu