Article Ka Sundar Jawab
ہفتہ رفتہ میں اُس آرٹیکل کا بڑاچرچا رہا، جو انگریزی اخبار میں شائع ہوا ہے، ہر چند کہ تحریر کنندہ کے والدین نے وضاحت کی ہے کہ یہ آرٹیکل نہ تو کسی ادارہ کے خلاف ہے نہ ہی کسی سیاسی پارٹی کی حمایت میں لکھا گیا ہے، حسب روایت ایک خاص ماینڈ سیٹ نے اس کو سوشل میڈیا پر وائرل اُس وقت کردیا، جب اخبار کی سائٹ سے ڈیلیٹ کرا دیا گیا، نوجوان لکھاری نے جو قلم آزمائی کی ہے، اس پر مختلف آرا دی جارہی ہیں، لیکن ایک خاص زوایہ سے آرٹیکل کی ٹرلولنگ کرنا اُس منفی ذہنیت کو عیاں کرتا ہے، جن کا مقصد ہر وقت سوشل میڈیا پر افراتفری پیدا کرنا ہے، عام فرد کو تو شائد زیادہ متاثر نہ ہو، مگر در پردہ جسکی حمایت کی جارہی ہے وہ سازش لگتی ہے، سب سے زیادہ سیاسی نقصان اُسی شخصیت کو ہورہا ہے، نجانے وہ کس مصلحت کے تحت آنکھیں بند کئے ہوئے ہے، اس طرح کی منفی سرگرمی سے اظہار لاتعلقی کرنے کو وہ یا اُنکی پارٹی ضروری نہیں سمجھتے۔ کالم نگار کو جنریشن زی کا فرد مانا جارہا ہے، ایسی نسل صرف سوشل میڈیا کی "مجاہد" مانی جاتی ہے۔
سیاسی تاریخ میں اگر کوئی قابل قدر مثالی، صاحب کردار، بااصول، دور اندیش ہستی ہمیں ملتی ہے تو وہ بانی پاکستان تھے، جن کی مخالفت میں عالمی اسٹیبلشمنٹ، ہندو اور سکھ اور کچھ علماءکرام بھی پیش پیش تھے مگر انکی متحدہ قوت قائد اعظمؒ کے سامنے بے بس ہوگئی، وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوئے، اسکی وجہ یہ تھی کہ انھوں نے مخالفین کی الزام تراشیوں کوکبھی در خود اعتنا نہ سمجھا، نہ ہی ان کا جواب دینے میں اپنا سنہری وقت ضائع کیا........
