Mustaqbil Barood Ke Hisar Mein
مستقبل بارود کے حصار میں
تو گویا انسانی ترقی کا عروج انسان ہی کی تباہی ہے۔ یہ سوال آج صرف فلسفیانہ نہیں رہا بلکہ عالمی سیاست کے افق پر ابھرتا ہوا سوال بن چکا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی، جہاں امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف براہِ راست کارروائیاں کیں اور ایران نے خلیجی خطے میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنا کر جواب دیا، دراصل ایک ایسے دور کی علامت ہے جہاں طاقت کا توازن بارود کے سائے میں تشکیل پا رہا ہے۔ قیادت کی سطح پر ڈونلڈ ٹرمپ، بینجمن نیتن یاہو اور مسعود پزشکیان جیسے رہنما اپنے اپنے قومی بیانیے کے تحت فیصلے کر رہے ہیں، مگر ان فیصلوں کے اثرات سرحدوں تک محدود نہیں رہتے۔ سوال یہ ہے کہ عالمی نظام کس سمت جا رہا ہے۔
آج کی دنیا ایک کثیرالجہتی تصادم کی طرف بڑھتی........
