Ikhtitam Ka Aghaz
"ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں، ہم ان میں جتنا جی سکتے ہیں جی لیں، اس کے بعد موت کے سوا کچھ نہیں ہوگا" ربی کی آواز میں یقین تھا، میں نے عرض کیا "میرا خیال ہے 218 سال ہیں" اس نے فوراً ہاں میں سر ہلایا اور بولا "آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں لیکن اختتام کا آغاز 35 برس میں ہو جائے گا، اس کے بعد 179 سال صرف جنگیں اور موت ہوگی لہٰذا امن اور وہ بھی ادھورے امن کے صرف 35 سال بچے ہیں، میرے دوست جتنا جی سکتے ہو جی لو" میں نے اس سے اتفاق کیا۔
ہمارے دائیں بائیں طنجے شہر کی رونقیں بہہ رہی تھیں، ہم مراکو کے اس قدیم شہر کے قدیم محلے میں بیٹھے تھے جس کی پتھریلی گلیوں میں کبھی ابن بطوطہ اور ابن عربی ٹہلتے تھے اور ان کے مرید، ان کے طالب علم ان کے پیچھے پیچھے علم اورعقل کے موتی چنتے رہتے تھے، ربی طنجے شہر کے قدیم سینا گوگ کا متولی تھا، یہ سینا گوگ طنجے کے سکالر بزنس مین اور بینکر موشے ناہن (Moshe Nahon) نے 1870ء میں بنایا تھا اور یہ اسی سے منسوب تھا۔
میں چار سال قبل دو دن کے لیے طنجے گیا، میرے ہوٹل میں احمد کام کرتا تھا، وہ شہر کے قدیم حصے مدینہ میں سیناگوگ کے قریب رہتا تھا، میری اس سے گپ شپ ہوئی تو اس نے سینا گوگ کے بارے میں بتایا اور میرا اس کے ساتھ 50 ڈالر میں سودا ہوگیا، اس نے 50 ڈالر میں مجھے سینا گو کی وزٹ بھی کرانی تھی اور ربی سے بھی ملانا تھا، میں شام کے وقت احمد کے ساتھ سیناگوگ چلا گیا، ربی سے ملاقات ہوئی، اس کا نام جیکب تھا، وہ پیشے کے لحاظ سے وکیل تھا، سیناگوگ میں پارٹ ٹائم کام کرتا تھا۔
طنجے کے یہودی اسرائیل نقل مکانی کر چکے تھے چناں چہ سیناگوگ میں عبادت نہیں ہوتی تھی، جیک صرف عمارت کی صفائی، ستھرائی اور عبادات کی قدیم کتابوں کا خیال رکھتا تھا، وہ ایک ماڈرن شخص تھا جسے عربی کے ساتھ ساتھ انگریزی، فرنچ اور سپینش زبانیں آتی تھیں، وہ پورے نارتھ افریقہ کے سیناگوگ کا محافظ تھا، وہ کام کے سلسلے میں مراکو، تیونس اور الجزائر میں گھومتا پھرتا رہتا تھا، میں نے جیکب کو کافی کی دعوت دی، اس نے قبول کر لی اور ہم "جاسوسوں کے کیفے" میں بیٹھ گئے۔
دوسری جنگ عظیم کے زمانے میں مختلف ملکوں کے جاسوس اس کیفے میں بیٹھ کر خبریں سونگھتے رہتے تھے لہٰذا یہ جاسوسوں کا کیفے مشہور ہوگیا، اس واقعے کو 85 سال گزر چکے ہیں لیکن یہ آج بھی جاسوسوں کا کیفے کہلاتا ہے، میں نے گفتگو کے دوران ربی جیکب سے یہودی کیلنڈر کے بارے میں پوچھا، اس کا کہنا تھا یہ ہمارے ایمان کا حصہ ہے، بنی اسرائیل کا عقیدہ ہے وقت کا یہ دور چھے ہزار سال پر مشتمل ہے، ہم یہ دور حضرت آدمؑ اور حضرت حواء کی دنیا میں آمد سے سٹارٹ کرتے ہیں۔
ہمارے خیال کے مطابق ہمارے کیلنڈر کے 5782 (2021ء میں) گزر چکے ہیں لہٰذا دنیا کے خاتمے میں صرف 218 سال بچے ہیں (2026ء میں یہ 214 سال رہ گئے ہیں) یہ کل تخمینہ ہے جب کہ زبور کے مطابق آج سے 35 برس کے اندر (آج 31سال) دنیا میں بڑی اور خوف ناک جنگ شروع ہوگی، یہ آہستہ آہستہ بڑھتی چلی جائے گی اور 180 سال........
