End Of Muslim World
ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے دوسری جنگ عظیم کا مطالعہ کرنا ہوگا، جرمنی نے مارچ 1945ء میں شکست ماننا شروع کر دی تھی، ہٹلر برلن میں اپنے انڈر گرائونڈ چیمبر میں چھپ گیا، جرمن فوج پسپا ہو چکی تھی اور اتحادی یورپ کا قبضہ واپس لے چکے تھے لیکن جاپان ہار ماننے کے لیے تیار نہیں تھا، وہ مشرقی محاذوں سے اتحادیوں کو مسلسل ٹینشن دیتا چلا جا رہا تھا، ہندوستان اس جنگ کا مرکز تھا، انگریز کو باہر سے جاپان اور اندر سے تحریکوں کا سامنا تھا، صاف محسوس ہو رہا تھا جاپان کسی بھی وقت ہند وستان پر قابض ہو جائے گا۔
دوسری طرف امریکا کے پاس اسلحہ اور فوجی ختم ہو چکے تھے، یہ مزید جنگ افورڈ نہیں کر سکتا تھا چناں چہ یہ ہر قیمت پر جاپان کا سرینڈر چاہتا تھا، 1945ء کے شروع میں "مین ہیٹن پراجیکٹ" سے اطلاع آئی ہم نے دنیا کا پہلا ایٹم بم بنالیا ہے بس ٹیسٹ باقی ہے، واشنگٹن میں 27 اپریل 1945ء کو ٹارگٹ کمیٹی کا اجلاس ہوا اور جاپان کے 17 شہروں پر ایٹم بم گرانے کا فیصلہ ہوگیا۔ "مین ہیٹن پراجیکٹ" سے رابطہ کیا گیا جواب آیا ہم فوری طور پر17 بم نہیں بنا سکیں گے جس کے بعد ہدف کو 17 سے پانچ کر دیا گیا۔
یہ فیصلہ ہوا "مین ہیٹن پراجیکٹ" سے گرین سگنل ملتے ہی جاپان کے پانچ شہروں ہیرو شیما، کو کورا (Kukrua)، یاکوہاما، نیگاتا (Niigata) اور کیوٹو پر بم گرا دیے جائیں گے، کیوٹو پر پہلا بم گرنا تھا لیکن امریکا کے سیکرٹری آف وار (وزیر جنگ) ہنری سٹمسن (Henry Stimson) کو کیوٹو پر رحم آ گیا، کیوٹو جاپان کا پرانا دارالحکومت اور کلچرل سنٹر تھا اگر یہ ختم ہو جاتا تو جاپانی کلچر کے قدیم آثار مٹ جاتے چناں چہ امریکی وزیر جنگ نے کیوٹو کو فہرست سے نکال کر ناگاساکی شامل کر دیا۔
امریکا نے اس کے بعد جاپان کو سمجھانا شروع کیا، یہ اسے ایٹم بم کے بارے میں بتاتا رہا لیکن جاپان کو اپنی فتح کا یقین تھا، یہ آگے بڑھتا رہا یہاں تک کہ 16 جولائی 1945ء آ گیا، امریکا نے اس دن پہلا کام یاب ایٹمی دھماکا کیا اور دنیا کی پہلی ایٹمی طاقت بن گیا، امریکا نے اس کے بعد اپنے جوہری بم ٹوکیو سے پندرہ سو کلو میٹر کے فاصلے پر موجود اپنے جزیرے تنین (Tinian) پر شفٹ کیے اور حملے کی تیاریاں شروع کر دیں، ہیروشیما ان کا پہلا ٹارگٹ تھا، چھ اگست 1945ء کی صبح ہیروشیما پر پہلا ایٹم بم گرا دیا گیا، یہ شیما ہسپتال کے اوپر فضا میں پھٹا، سیکنڈز میں درجہ حرارت تین ہزار سینٹی گریڈ تک پہنچا اور شہر عمارتوں، پلوں، سڑکوں اور انسانوں سمیت پگھل گیا، آدھ گھنٹے میں 80 ہزار لوگ ہلاک ہو گئے جب کہ زندہ بچ جانے والے پوری زندگی موت کی دعا مانگتے رہے۔
جاپان کو اس کے بعد دوبارہ سرینڈر کی دعوت دی گئی لیکن جاپانیوں نے خون کے آخری قطرے اور آخری گولی تک لڑنے کا اعلان کر دیا چناں چہ امریکا نے تین دن بعد (9 اگست) ناگاساکی پر دوسرا ایٹم بم گرا دیا، 75........
