menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Rahim Yar Khan, Meri Zindagi

8 0
latest

رحیم یارخان، میری آدھی زندگی

گزشتہ دنوں اپنے پرانے دوست شیخ ندیم اشرف ایڈوکیٹ کے برخوردار کی شادی خانہ آبادی میں بڑے طویل عرصے کے بعد رحیم یار خان جانے کا اتفاق ہوا۔ وہی شہر جہاں میری ملازمت اور زندگی کا ایک طویل اور یادگار دور گزرا تھا۔ اگر میں یہ کہوں کہ میری آدھی زندگی یہاں کی گلیوں، سڑکوں، بستیوں اور محلوں میں گزری تو زیادہ درست ہوگا۔ بےشمار لوگوں اور دوستوں کی محبتیں سمیٹنے کا یہ عرصہ میری زندگی کا آج بھی سرمایہ ہے۔

ایک بڑے عرصہ بعد اس دھرتی پر قدم رکھا تو دل میں پرانی یادوں کی مہک بھی تھی اور انجانی سی جستجو بھی کہ وقت نے اس شہر کے خدوخال میں کیا تبدیلیاں کی ہیں؟ مگر جو منظر آنکھوں نے دیکھا وہ خوشگوار حیرت سے کم نہ تھا۔ سڑکیں کشادہ اور صاف، بازار منظم اور ہر طرف ستھرا پن جو دل کو بھا جائے۔ خاص طور پر صفائی کا ایسا بہترین انتظام دیکھنے کو ملا کہ یوں محسوس ہوا جیسے یہ شہر واقعی "ستھرا پنجاب" کے جواب کی عملی تصویر بن چکا ہو۔ یقین نہیں آتا تھا کہ یہ وہی صادق بازار ہے جہاں کی بینک برانچ میں میں تین سال تک ڈیوٹی دیتا رہا تھا اور جو آج پاکستان نہیں یورپ کا کوئی بازار لگتا ہے۔ یہ صرف اینٹ اور پتھر کی ترقی نہیں بلکہ سوچ کی تبدیلی کا مظہر ہے۔ ایک ایسا شعور جو شہری زندگی کو مہذب، صحت مند اور باوقار بنانے کی سمت میں بڑھ رہا ہے۔ یقیناََ یہ سب ان افراد اور اداروں کی محنت کا ثمر ہے جنہوں نے اس شہر کو سنوارنے میں اپنا کردار ادا کیا۔

اس شاندار تبدیلی پر یہاں کے لوگوں اور خصوصی طور پو عوامی نمائندوں کو دل سے خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ شہر تو ہمیشہ سے ہی خوبصورت تھا مگر موجودہ صفائی ستھرائی نے اسے چارچاند لگا دیے ہیں۔ میں نے دیکھا کہ رات کے اندھیرے میں بھی صفائی کے کارکن ہر جانب سبز وردیوں مین ملبوس کام کرتے نظر آئے اور دن نکلتے ہی ان کی آوازیں سنائی دیتی ہیں۔ شاہی روڈ کی سڑک جہاں سے کبھی ناجائز تجاوازات کی باعث گزرنا محال ہوتا تھا آج کھلی کھلی اور صاف صاف بہت عمدہ لگتی ہیں۔ اس شہر کی ایم سی بی اور بینک الفلاح کی برانچوں میں سالوں خدمات انجام دی ہیں لیکن اس مرتبہ یہ محسوس ہوا کہ سب کچھ وہی ہے مگر چہرے بدل چکے ہیں۔

ہمارے دور کی جنریشن یا شاید اب رہی نہیں یا پھر اس قدر بوڑھی ہو چکی ہے کہ پہچان میں نہیں آتی۔ بہت کم کم چہرئے شناساں سے نظر آئے۔ البتہ نئی جنریشن کی صورتیں دیکھ کر ان کے اجداد کی یادیں ضرور تازہ ہو جاتی ہیں۔ میں ضلع رحیم یار خان کی تینوں تحصیلوں میں تعینات رہا ہوں یعنی لیاقت پور، صادق آباد اور رحیم یارخان اور بلاشبہ یہ میری زندگی کے بہترین لمحات تھے۔ میں نے اس ضلع کی ویرانیاں بھی دیکھی ہیں اور آج اس پورے ضلع کی بےمثال ترقی بھی دیکھ رہا ہوں۔ میں نے یہاں کے بڑے بڑے ہیروز کو زیرو ہوتے دیکھا اور بےشمار محنت کرنے والوں کو ترقی کی بلندیوں کو چھوتے بھی دیکھا۔ میری تعیناتی بڑے عرصہ تک ماڈل ٹاون برانچ میں رہی جو شیخ زید ہسپتال کے باہر ہوا کرتی تھی اور شیخ زید ہسپتال کے تما ڈاکٹرز اور عملہ میرا اکاونٹ ہولڈر ہوتا تھا مگر جب میں اور آج میں بڑا فرق پڑ چکا ہے آج شیخ زید ہسپتال دیکھ کر یقین نہیں آتا کہ یہ پاکستان کا وہی سرکاری ہسپتال ہے۔

گو یہ شہر تجارتی اور صنعتی اعتبار سے ایک منفرد اور اہم شہر شمار ہوتا ہے۔ لیکن رحیم یار خان کو بجا طور پر ہمیشہ "منی لاہور" بھی کہا جاتا رہا ہے اور اس کی وجہ صرف اس کی وسعت یا رونق نہیں بلکہ اس کی وہ جھلک ہے جو بڑے شہروں کی تہذیب اور حسن کی عکاسی کرتی ہے۔ خاص طور پر شہر کے قریب بہنے والی نہر کا منظر انسان کو بےاختیار ٹھوکر نیاز بیگ کی یاد دلا دیتا ہے، جہاں پانی کے کنارے زندگی کی ایک الگ ہی روانی محسوس ہوتی ہے۔

یہ نہر محض پانی کی گزرگاہ نہیں بلکہ شہر کی خوبصورتی اور سکون کا استعارہ ہے، جیسے لاہور میں نہریں شہری زندگی کو تازگی بخشتی ہیں، ویسے ہی یہاں بھی شام کے وقت ٹھنڈی ہوائیں، بہتا پانی اور اطراف کا منظر ایک دلکش فضا قائم کر دیتا ہے ایسے مناظر اس بات کا ثبوت ہیں کہ خوبصورتی صرف بڑے شہروں کی میراث نہیں، بلکہ چھوٹے شہر بھی اپنی سادگی اور فطری حسن سے دل موہ لیتے ہیں۔ رحیم یار خان واقعی اس لحاظ سے "منی لاہور" کہلانے کا حق رکھتا ہے۔ یہی وہ یادگار نہر ہے جسکے ساتھ ساتھ میں اور میرے دوست نواز میتلا مرحوم صبح ایک طویل واک کرتے تھے جہاں اس زمانے میں آدھا شہر چہل قدمی کے لیے امڈ آیا کرتا تھا۔

رحیم یار خان کی تیز رفتار ترقی کوئی اتفاق نہیں بلکہ کئی عوامل کا نتیجہ ہے جو مل کر اس شہر کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ سب سے پہلی وجہ اس کا جغرافیائی محلِ وقوع ہے۔ یہ شہر جنوبی پنجاب کا ایک اہم گیٹ وے ہے، جو سندھ اور پنجاب کو آپس میں ملاتا ہے۔ اس اسٹریٹیجک پوزیشن نے تجارت، ٹرانسپورٹ اور کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دیا ہے۔ دوسری بڑی وجہ زرعی خوشحالی ہے۔ یہ علاقہ پاکستان کے زرخیز ترین خطوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں کپاس، گندم اور گنا جیسی اہم فصلیں پیدا ہوتی ہیں۔ زرعی معیشت مضبوط ہو تو اس کے اثرات شہروں کی ترقی پر بھی واضح نظر آتے ہیں۔ تیسری وجہ صنعتی اور کاروباری سرگرمیاں ہیں۔ یہاں شوگر ملز، ٹیکسٹائل یونٹس اور دیگر صنعتیں نہ صرف روزگار پیدا کر رہی ہیں بلکہ مقامی معیشت کو بھی مستحکم کر رہی ہیں۔

چوتھی اہم بات انفراسٹرکچر میں بہتری ہے، سڑکیں، صفائی، شہری سہولیات اور انتظامی اقدامات، جیسے آپ نے خود "ستھرا پنجاب" کی جھلک دیکھی، یہ سب ترقی کی رفتار کو بڑھا رہے ہیں۔ پانچویں وجہ آبادی میں اضافہ اور شہری توسیع ہے۔ دیہی علاقوں اور خصوصی طور پر سندھ اور بلوچستان سے لوگ بہتر روزگار اور سہولیات کی تلاش میں یہاں آ رہے ہیں، جس سے شہر پھیل رہا ہے اور نئی ہاؤسنگ، مارکیٹس اور سروسز جنم لے رہی ہیں۔

آخر میں، ایک اہم عنصر مقامی انتظامیہ یہاں کے سیاسی لیڈرز کی کارکردگی اور پالیسیز بھی ہے۔ ایک سب سے خاص اور اہم وجہ جو شاید میں سب سے بہتر جانتا ہوں وہ یہاں کے لوگوں کی محبت اور خلوص ہے جو یہاں آنے والے لوگوں کو یہیں کا کر دیتا ہے اور اگر سچ کہوں تو یہاں کے لوگوں کی ترقی کا راز تعلیم سے دلچسپی اور توجہ بھی ہے یہی وجہ ہے کہ یہاں کے نوجوان ہر شعبہ زندگی میں آگے نظر آتے ہیں۔ میرے اپنے تمام بچے یہاں کے تعلیمی اداروں سے پڑھ کر آج ڈاکٹر بن چکے ہیں۔ جب نچلی سطح پر نظم و ضبط اور وژن ہو تو ترقی صرف منصوبوں تک محدود نہیں رہتی بلکہ زمین پر نظر آتی ہے۔

یوں کہا جا سکتا ہے کہ رحیم یار خان کی ترقی زراعت، تجارت، جغرافیہ اور بہتر انتظام کا ایک خوبصورت امتزاج ہے اور یہی اسے واقعی "منی لاہور" بننے کی راہ پر گامزن رکھے ہوئے ہے۔ یہ شہر دوسرئے شہروں کے لیے ترقی کی ایک ایسی مثال ہے جو یہ ثابت کرتی ہے کہ اگر عوامی نمائندئے اور مقامی لوگ ایک سی سوچ رکھتے ہوں تو پالیسیاں خود بخود ان کا ساتھ دیتی ہیں۔ بےشک یہ شہر میری جوان اور خوبصورت یادوں کا شہر ہے۔ میرئے بےمثال، پر خلوص اور لازوال دوستوں کی سرزمین ہے۔ اللہ اس دھرتی کو شاد وآباد رکھے اور مزید ترقی سے نوازتا رہے آمین!


© Daily Urdu