menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Samaat

11 0
latest

کیا آپ جانتے ہیں کہ جس کائنات میں ہم رہتے ہیں، اس کی خاموش وسعت میں "آواز" نام کی کوئی چیز خود سے موجود نہیں؟

یہ مکمل طور پر خاموش کائنات ہے، بالکل خاموش۔

تو پھر اتنا سب جو ہم سنتے ہیں، وہ کیا ہے؟

ہمیں جو کچھ بھی سنائی دیتا ہے، وہ دراصل کائنات میں موجود کسی "آواز" کا وجود نہیں، بلکہ مادّے میں پیدا ہونے والی لہروں کی حرکت ہے۔

جب کوئی شخص بولتا ہے، کوئی چمچ زمین پر گرتا ہے، کسی بلے سے گیند کو مارا جاتا ہے، یا تنبورے کے پنچم کو چھیڑا جاتا ہے، تو صرف ارتعاش پیدا ہوتا ہے، ہوا میں ارتعاش۔

یہ ارتعاش لہروں کی صورت میں سفر کرتا ہوا ہمارے کان تک پہنچتا ہے۔ کان کا پردۂ سماعت ان لہروں سے حرکت کرتا ہے، کان کے اندر موجود ایک زبردست مگر پیچیدہ نظام اس حرکت کو برقی سگنلز میں تبدیل کرتا ہے اور یہ سگنلز اعصابی راستوں سے دماغ تک پہنچتے ہیں۔

اور پھر شروع ہوتا ہے اصل کمال۔

دماغ ان برقی سگنلز کو پہچانتا ہے۔

کبھی انہیں موسیقی بنا دیتا ہے، کبھی کسی بچے کی ہنسی، کبھی ماں کی آواز، کبھی اذان، کبھی کسی کی چیخ۔

اور کبھی چند بے ترتیب ارتعاشات کو جوڑ کر ایک جملہ بنا دیتا ہے۔

"میں آپ سے ایک بات کہنا چاہتا ہوں"۔

چند لمحے پہلے تک ہوا میں صرف ارتعاش تھا، اب ہمارے ذہن میں مطلب پیدا ہو چکا ہے۔

گویا ہم صرف آواز نہیں سنتے۔

اور شاید یہاں سے "سماعت" اور محض "سنائی دینے" میں فرق شروع ہوتا ہے۔

کان کا کام ہے ارتعاش کو پکڑ کر اسے اعصابی سگنل میں بدلنا۔

مگر........

© Daily Urdu