Teesre Hafte Mein Dakhil Hui Iran Jang
تیسرے ہفتے میں داخل ہوئی ایران جنگ
جنگ میں سب سے زیادہ جھوٹ اور تعصب فروخت ہوتے ہیں لیکن پھر بھی کہیں نہ کہیں سچ یا اس سے قریب تر کی اطلاعات کا دیا جلتا رہتا ہے بھلے ٹمٹما ہی کیوں نہ رہا ہو، حالیہ ایران جنگ کے حتمی نتائج کیا ہوں گے؟ اس سوال کا جواب صاف سامنے دیوار پر لکھا ہے بس ہم آنکھیں چراتے ہیں کیوں؟ اس سوال کا جواب ایک تو یہ ہے کہ ہمارے چار اور آباد لوگ اس جنگ کو اپنے اپنے عقیدے اور تعصب کی آنکھ سے فقط دیکھتے ہی نہیں بلکہ نتائج بارے بھی اپنی رائے کو حتمی قرار دے کر "اوئے توئے" کی حد بھی پھلانگ جاتے ہیں۔
ایسا کیوں ہے اس پر مغز کھپانے یا لمبی چوڑی بحث کی ضرورت نہیں یہاں ہر شخص کا اپنا سچ ہے۔ جارح ظالم کا اپنا اور مظلوم کا اپنا سچ مثلاً امریکی وزیر دفاع کا سچ یہ ہے کہ "امریکہ کا ایران جنگ کیلئے نوکوارٹر آرڈرز ہی جنگ کا سچ ہے یعنی کسی بھی دشمن کو قیدی نہیں بنایا جائے گا بلکہ سب کو ہلاک کیا جائے گا"۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں اس نوکوارٹرز آرڈرز پر پتہ نہیں کیا کہتی ہیں یا کہیں گی لیکن مجھ طالبعلم کی رائے یہی ہے کہ ایران میں طالبات کے اسکول پر امریکی میزائل حملے کو اسی نوکوارٹرز آرڈرز کے تحفظ کی چھتری فراہم کی جارہی ہے۔
یہی کہ کسی سے رعایت نہیں سب کو مار دو اس پر ستم یہ ہے کہ 170 بچیوں کے سفاکانہ قتل کو جواز فراہم کرتے ہوئے امریکی وزارت دفاع کے نابغے جو دانش رول رہے ہیں اس پر کرہ ارض پر بستے انسانوں اور بالخصوص انسانی حقوق کی تنظیموں نے ویسا ردعمل ظاہر نہیں کیا جو ہونا چاہئے تھا۔
آج اتوار (یہ سطور لکھتے وقت) اور 15 مارچ کی صبح ہے ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جارحیت تیسرے ہفتے میں داخل ہوچکی، 4 دن میں رجیم چینج کرنے کا مشن لے کر ایران پر چڑھ دوڑنے والے اب کہہ رہے بلکہ اپیل کررہے ہیں کہ آبنائے ہرمز سے تیل بردار اور تجارتی بحری جہازوں کو محفوظ انداز میں گزارنے کیلئے دنیا اپنا کردار ادا کرے۔
سوال یہ ہے کہ جینیوا میں امریکہ اور ایران کے درمیان اس جارحیت کے ارتکاب سے قبل جو مذاکرات ہورہے تھے کیا وہ حتمی طور پر ناکام رہے تھے؟ ایسا بالکل بھی نہیں بلکہ جنگ سے دو یا تین دن قبل امریکہ اور ایران دونوں کے نمائندے بتارہے تھے کہ مذاکرات آگے بڑھ رہے۔ جینیوا سے روانگی کے وقت ایرانی وزیر خارجہ نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا تھا مذاکرات کے اگلے دور کی تاریخ طے پاگئی........
