Super March, Somnat, Mehangai Aur Inkishafat
سپر مارچ، سومنات، مہنگائی اور انکشافات
پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں کمی پٹرولیم لیوی کے خاتمے اور دیگر مطالبات پرمبنی جماعت اسلامی کا سپر ٹرین مارچ شروع ہوچکا۔ تادمِ تحریر سپر ٹرین مارچ حیدرآباد ریلوے اسٹیشن پر جلسہ پھڑکا کر آگے بڑھ گیا ہے۔ ایک اسلام آبادی صحافی نے خبردی ہے کہ "جماعت اسلامی نے ثابت کیا ہے کہ وہ ایسی سرگرمیوں میں ملوث نہیں ہوتی جن سے ملک یا شہریوں کو نقصان ہو"۔ اس سادگی تاریخ دانی اور خبریت تینوں کو سوا دو توپوں کی سلامی پیش کرنے کو جی چاہتا ہے تلاش کررہا ہوں کہ درہ آدم خیل میں کوئی مہربان دوست مل جائے تاکہ کرائے پر توپ حاصل کرکے عنداللہ ماجور ہوسکوں۔
ویسے آجکل اسلام آباد کے حاضر سروس اور سابق صحافی انکشافات کے ریکارڈز بنارہے ہیں۔ دو دن پہلے ایک سابق صحافی اور حاضر سروس سیاستدان نے انکشاف کیا کہ "اسٹیبلشمنٹ نے حافظ نعیم الرحمن کو کراچی کا میئر نہیں بننے دیا"۔ سید مشاہد حسین ترمذی باخبر آدمی ہیں صرف آج نہیں بلکہ ہمیشہ سے باخبر ذرائع سے قربت کے حامل رہے انہوں نے جو کہا وہ درست ہی ہوگا اور مطلب یہ لیا جائے کہ جسے کراچی کا میئر نہیں بننے دیا گیا وہ جماعت اسلامی کا مرکزی امیر بن گیا اور اب سڑکوں کی سیاست کرکے حساب چکا رہا ہے۔
ہمزاد فقیر راحموں پیر سید مشاہد حسین ترمذی سے متفق نہیں ہے۔ اس عدم اتفاق پر وہ جو کہانی سناتا ہے وہ بھی دلچسپ بلکہ باعث عبرت ہے۔ فقیر راحموں کا کہنا ہے کہ جماعت اسلامی کو کراچی کی شہری سیاست میں زندہ کرنے کیلئے ایم کیو ایم بہادرآباد کو بلدیاتی انتخابات کا بائیکاٹ کرنے پر آمادہ کرنے والے کرداروں بارے ترمذی پیر بات کیوں نہیں کرتے؟ ہوسکتا ہے پیر ترمذی کا جواب یہ ہو کہ اس وقت اسٹیبلشمنٹ اور پیپلز پارٹی میں ہنی مون چل رہا تھا اس لئے داوپیچ کھیل کر پیپلز پارٹی کیلئے راستہ ہموار کیا گیا۔
معاف........
