Gham e Hussain Se Shaoor e Insaniyat Tak
غمِ حسینؑ سے شعورِ انسانیت تک
سائے ڈھل رہے تھے اور افق پر شامِ غریباں اتر رہی تھی، جیسے دن کی آخری سانسیں خاموشی کے دامن میں تحلیل ہو رہی ہوں اور وقت خود کسی گہری اداسی کے بوجھ تلے ٹھہر سا گیا ہو۔ ریت کے ذروں پر چلتی ہوا میں ایک عجیب سی اداسی تھی، جیسے زمانہ خود کسی عظیم داستان کے سامنے سر جھکائے کھڑا ہو۔ یہ داستان صرف ایک معرکے، ایک شہادت یا ایک المیے کی نہیں بلکہ انسانی ضمیر، اخلاقی جرات اور ابدی صداقت کی داستان ہے۔ جب بھی محرم الحرام کا مہینہ آتا ہے تو مسلمانوں کے دلوں میں غمِ حسینؑ کی ایک نئی لہر جنم لیتی ہے، لیکن اس غم کی اصل روح صرف جذباتی وابستگی نہیں بلکہ ایک گہرا فکری، تہذیبی اور اخلاقی شعور ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کربلا کا واقعہ محض تاریخ کا ایک باب نہیں بلکہ انسانی تاریخ کے ضمیر میں ثبت ایک دائمی استعارہ بن چکا ہے۔
کربلا کی عظمت کا راز اس بات میں ہے کہ وہاں رسولِ اکرم ﷺ کے نواسے حضرت امام حسینؑ نے جامِ شہادت نوش کیا، اس کے علاوہ اس کی اہمیت اس اخلاقی اور فکری انقلاب میں مضمر ہے جسے اس واقعے نے جنم دیا۔ تاریخ میں بے شمار جنگیں ہوئیں، سلطنتیں قائم ہوئیں اور مٹ گئیں، حکمران آئے اور گزر گئے، لیکن کربلا کا واقعہ آج بھی زندہ ہے کیونکہ اس نے انسان کو حق و باطل کی تمیز کا وہ معیار عطا کیا جس کی روشنی ہر دور میں رہنمائی فراہم کرتی ہے۔
غمِ حسینؑ دراصل ایک زندہ شعور کا نام ہے۔ یہ صرف آنسو بہانے یا ایک تاریخی سانحے پر افسوس کرنے کا نام نہیں بلکہ ایک ایسے فکری سفر کا نام ہے جو انسان کو اپنے باطن میں جھانکنے پر مجبور کرتا ہے۔ یہ سوال اٹھاتا ہے کہ سچائی کی قیمت کیا ہے؟ اصولوں کی حفاظت کے لیے قربانی کی حد کیا ہو سکتی ہے؟ کیا انسان اپنے ضمیر کی آواز پر قائم رہ سکتا ہے جب پوری دنیا اس کے خلاف کھڑی ہو؟ کربلا انہی سوالات کے جواب فراہم کرتی ہے۔
علامہ اقبال نے کہا تھا:
غریب و سادہ و رنگیں ہے داستانِ حرم نہایت اس کی حسینؑ، ابتدا ہے اسماعیلؑ
یہ شعر تاریخِ توحید کے اس فکری تسلسل کو بیان........
