menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Salamti Ka Safar

35 0
01.10.2026

دہشت گردی کسی ریاست کے دروازے پر اچانک نمودار ہونے والا ایک وقتی حادثہ نہیں بلکہ ایک ایسا مسلسل اور متغیر بحران ہے جو سیاسی کشمکش، علاقائی عدم استحکام، نظریاتی انتہاپسندی، کمزور حکمرانی، معاشی محرومی، غیر قانونی مالیاتی ذرائع اور جدید ابلاغی ٹیکنالوجی کے باہمی امتزاج سے اپنی نئی صورتیں پیدا کرتا رہتا ہے۔ پاکستان نے اس عفریت کے مقابلے میں طویل عرصے تک بھاری انسانی قیمت ادا کی ہے۔ فوج، پولیس، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عام شہریوں کی قربانیوں نے ریاستی مزاحمت کو مضبوط ضرور کیا، لیکن موجودہ منظرنامہ یہ سوال بھی سامنے لاتا ہے کہ کیا دہشت گردی کے خلاف کامیابی کو صرف ایک ایک حملے کو ناکام بنانے یا ایک ایک ٹھکانے کو ختم کرنے تک محدود رکھا جا سکتا ہے؟

ستمبر 2026 کے واقعات اس سوال کی اہمیت مزید واضح کرتے ہیں۔ کوہاٹ میں پولیس لائنز پر حملے کے بعد 21 گھنٹے کی کارروائی میں 8 حملہ آور مارے گئے جبکہ پولیس اور حکام کے مطابق ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 23 تک پہنچی۔ چند روز بعد ڈیرہ اسماعیل خان کے دارازندہ علاقے میں ایک خودکش حملے نے مزید جانی نقصان کیا، جبکہ 28 ستمبر کو ٹانک میں پولیس کی گاڑی پر فائرنگ کے نتیجے میں 3 ٹریفک اہل کار جاں بحق اور 3 زخمی ہوئے۔

یہ صورتِ حال بتاتی ہے کہ پاکستان کا سلامتی کا مسئلہ ایک ہی جغرافیے تک محدود نہیں۔ خیبر پختونخوا میں مسلح حملوں کی نوعیت اپنی جگہ سنگین ہے، بلوچستان میں صورتِ حال میں دہشت گردی کے ساتھ اغوا، بھتہ خوری، شاہراہوں پر نقل و حرکت میں خلل اور مسافروں کو نشانہ بنانے جیسے عناصر بھی سامنے آ رہے ہیں، جبکہ پنجاب میں خطرے کی ایک مختلف شکل دکھائی دیتی ہے۔ ستمبر میں پنجاب کے کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ نے 158 انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیوں کے دوران 23 مشتبہ دہشت گردوں کی گرفتاری اور بڑی مقدار میں دھماکا خیز مواد، آئی ای ڈیز اور ڈیٹونیٹرز کی برآمدگی کا دعویٰ کیا۔

یہ اعداد و شمار سرکاری ادارے کے بیان پر مبنی ہیں، اس لیے ان کی حتمی قانونی حیثیت کا تعین عدالتی عمل سے ہونا باقی ہے۔ اسی ماہ پنجاب حکومت نے صوبے بھر میں دفعہ 144 نافذ کی اور راولپنڈی، اٹک، جہلم اور میانوالی میں رینجرز کی معاونت بھی........

© Daily Urdu