Pakistan Aalmi Sifarat Kari Ka Markaz
پاکستان عالمی سفارتکاری کا مرکز
بین الاقوامی سیاست کے پیچیدہ اور تہہ در تہہ منظرنامے میں بعض لمحات ایسے ابھرتے ہیں جو محض وقتی پیش رفت نہیں ہوتے بلکہ عالمی طاقتوں کے باہمی تعلقات کی سمت متعین کرنے کا سبب بن جاتے ہیں۔ حالیہ دنوں امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی اور دو ہفتوں کی جنگ بندی اسی نوعیت کا ایک اہم سنگِ میل ہے، جس نے نہ صرف خطے میں ممکنہ تباہ کن تصادم کو عارضی طور پر روکا بلکہ پاکستان کو ایک بار پھر عالمی سفارتکاری کے مرکزی کردار کے طور پر اجاگر کر دیا۔
بین الاقوامی جریدے وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ میں جس انداز سے پاکستان کے کردار کو تسلیم کیا گیا ہے، وہ اس امر کا غماز ہے کہ عالمی برادری اب جنوبی ایشیا کے اس اہم ملک کو محض ایک علاقائی کھلاڑی نہیں بلکہ ایک مؤثر سفارتی پل کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق عاصم منیر نے نہایت متوازن اور محتاط حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے واشنگٹن، بیجنگ، تہران اور ریاض کے ساتھ موجود تعلقات کو بروئے کار لا کر کشیدگی کم کرانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ یہ سفارتی توازن دراصل پاکستان کی دیرینہ خارجہ پالیسی کا تسلسل ہے، جس میں مختلف عالمی طاقتوں کے ساتھ بیک وقت روابط کو برقرار رکھنا ایک بنیادی اصول رہا ہے۔
یہ حقیقت بھی قابلِ توجہ ہے کہ موجودہ عالمی نظام میں کسی ایک طاقت کے زیر اثر رہ........
