menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Naye Sube, Nayi Hukumrani?

33 0
15.09.2026

نئے صوبے اور نئی حکمرانی؟

کسی بھی ریاست کی حقیقی طاقت اس کے جغرافیائی رقبے، انتظامی اکائیوں کی تعداد یا سرکاری نقشوں پر کھینچی گئی حد بندیوں سے نہیں، بلکہ ریاست اور شہری کے درمیان قائم اعتماد کے رشتے سے متعین ہوتی ہے۔ جب یہ رشتہ کمزور پڑنے لگے اور حکمران اشرافیہ کی ترجیحات عام آدمی کی بنیادی ضرورتوں سے متصادم دکھائی دینے لگیں تو ریاستی نظم کا سب سے اہم سوال انتظامی نقشہ نہیں بلکہ حکمرانی کی سمت بن جاتا ہے۔

پاکستان میں آج یہی بنیادی سوال ہمارے سامنے کھڑا ہے۔ ایک طرف مہنگائی، بے روزگاری، گرتی ہوئی قوتِ خرید، بجلی و گیس کے ہوش ربا اخراجات، تعلیم و صحت کی دشواریاں اور روزمرہ زندگی کی بڑھتی ہوئی بے یقینی عام شہری کو مسلسل مضطرب رکھے ہوئے ہے، دوسری طرف اقتدار کے ایوانوں میں نئے صوبوں، انتظامی اکائیوں اور صوبائی حدود کی ازسرِنو تشکیل کا چرچا ہے۔ حالیہ Ipsos سروے بھی اس اجتماعی بے اطمینانی کی عکاسی کرتا ہے کہ عوام کی ایک بڑی تعداد ملک کی موجودہ سمت سے مطمئن نہیں، جبکہ معیشت اور مہنگائی ان کے سب سے بڑے مسائل میں شامل ہیں۔ ایسے ماحول میں حکومتی ترجیحات کا سوال خود ایک بڑا سیاسی سوال بن جاتا ہے۔

نئے صوبوں کا قیام اصولی اعتبار سے کوئی ناقابلِ تصور یا غیر جمہوری اقدام نہیں۔ دنیا کے مختلف ممالک نے بدلتے ہوئے آبادیاتی، معاشی اور انتظامی تقاضوں کے مطابق اپنی ریاستی ساخت میں تبدیلیاں کی ہیں۔ پاکستان میں بھی جنوبی پنجاب، ہزارہ، بہاولپور اور دیگر علاقوں کے حوالے سے انتظامی تشکیلِ نو کی بحث طویل عرصے سے جاری رہی ہے۔ تاہم ایک بالغ ریاست میں کسی انتظامی تبدیلی کا آغاز سیاسی نعرے سے نہیں بلکہ تحقیق سے ہوتا ہے۔ یہ جاننا ضروری ہے کہ نئی اکائی کا معاشی حجم کیا ہوگا، اس کے وسائل اور محصولات........

© Daily Urdu