Khamosh Deta, Phelta HIV
خاموش ڈیٹا، پھیلتا ایچ آئی وی
سندھ میں عوامی صحت کے افق پر ایک ایسی تشویش ناک دھند چھاتی محسوس ہو رہی ہے جس کے اندر حقیقت کے خدوخال دھندلا گئے ہیں اور اندازوں، قیاس آرائیوں اور غیر مصدقہ اطلاعات نے ایک اضطراب انگیز فضا قائم کر دی ہے۔ ایچ آئی وی/ایڈز جیسے حساس اور دیرپا اثرات کے حامل مرض کے حوالے سے جب مستند اعداد و شمار نظروں سے اوجھل ہوں اور سرکاری سطح پر وضاحت کا فقدان ہو تو یہ محض ایک انتظامی کمزوری نہیں بلکہ پبلک ہیلتھ گورننس کے بنیادی اصولوں سے انحراف کے مترادف بن جاتا ہے۔ اس وقت سندھ میں جو صورتحال ابھر کر سامنے آ رہی ہے، وہ اسی نوعیت کے ایک پیچیدہ بحران کی غمازی کرتی ہے، جہاں بیماری سے زیادہ خطرناک اس کے بارے میں لاعلمی اور ابہام ہے۔
رواں سال کی ابتدائی سہ ماہی میں غیر سرکاری ذرائع سے سامنے آنے والے اعداد و شمار اس امر کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ نئے کیسز کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے، تاہم اس اضافے کی نوعیت، جغرافیائی پھیلاؤ اور متاثرہ آبادی کے طبقات کے بارے میں کوئی واضح اور مستند تصویر موجود نہیں۔ یہی وہ خلا ہے جو خدشات کو جنم دیتا ہے۔ جب ریاستی ادارے خاموشی اختیار کریں یا محض عمومی بیانات تک محدود رہیں تو یہ سوال پیدا ہونا فطری ہے کہ آیا اصل صورتحال اس سے کہیں زیادہ سنگین تو نہیں جسے ظاہر ہونے سے روکا جا رہا ہے۔ صحت عامہ کے معاملات میں شفافیت محض ایک اخلاقی تقاضا نہیں بلکہ عملی ضرورت ہے، کیونکہ اسی کی بنیاد پر حکمت عملی تشکیل دی جاتی ہے، وسائل کی تقسیم ہوتی ہے اور عوامی آگاہی کی مہمات ترتیب پاتی ہیں۔
چند روز قبل Medical Microbiology and Infectious Diseases Society of Pakistan کی جانب........
