menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Israel, Shehriyon Ka Tareekhi Inkhila

23 14
26.01.2026

تاریخ کے بعض موڑ ایسے ہوتے ہیں جو طاقتور ریاستوں کے دعوؤں، نظریاتی بنیادوں اور سیاسی بیانیوں کو یک لخت بے نقاب کر دیتے ہیں۔ اکتوبر کی سات تاریخ کے بعد اسرائیل کو جس داخلی بحران کا سامنا ہے، وہ محض ایک عسکری یا سکیورٹی چیلنج نہیں بلکہ ایک فکری، نفسیاتی اور وجودی آزمائش بن چکا ہے۔ وہ ریاست جسے دہائیوں تک یہودیوں کے لیے محفوظ ترین پناہ گاہ، ناقابلِ تسخیر قلعہ اور مشرقِ وسطیٰ میں استحکام کی علامت بنا کر پیش کیا جاتا رہا، آج خود اپنے شہریوں کے اعتماد سے محروم ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔

حالیہ سرکاری اعداد و شمار اس تلخ حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں کہ گزشتہ دو برسوں میں ڈیڑھ لاکھ سے زائد اسرائیلی شہری ملک چھوڑ چکے ہیں، جب کہ صرف 2023ء میں 82 ہزار 800 افراد نے طویل مدت کے لیے بیرونِ ملک ہجرت اختیار کی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 44 فیصد اضافہ ہے۔ یہ اعداد محض ہجرت کا شمار نہیں بلکہ ایک گہرے اجتماعی خوف، عدم تحفظ اور سیاسی مایوسی کا اظہار ہیں۔

اکتوبر 7 کے بعد اسرائیلی معاشرے میں جو نفسیاتی زلزلہ آیا، اس نے ریاستی بیانیے کی بنیادیں ہلا کر رکھ دی ہیں۔ وہ بیانیہ جو یہ یقین دلاتا تھا کہ اسرائیل اپنے شہریوں کو ہر حال میں تحفظ فراہم کر سکتا ہے، عملی طور پر بے وزن دکھائی دینے لگا ہے۔ راکٹ حملے، سکیورٹی ناکامیاں،........

© Daily Urdu