menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Dr. Saima Ghayas Uddin

27 0
28.06.2026

ڈاکٹر صائمہ غیاث الدین

یہ کالم کسی رسمی تہنیتی کلمات کا مروجہ مجموعہ نہیں، بلکہ اس فکری اور علمی ریاضت کی سحر انگیز داستان ہے جہاں خواب، استقامت کے سانچے میں ڈھل کر حقیقت کا روپ دھارتے ہیں۔ طب کی دنیا میں "ایم آر سی او جی" (MRCOG) کی دستارِ فضیلت محض ایک ڈگری یا پیشہ ورانہ سنگِ میل نہیں، بلکہ یہ طبی مابعدالطبیعات کے اس عمیق سمندر کی غواصی ہے جہاں مہارت اور انسانی ہمدردی کا سنگم ہوتا ہے۔ جب ہم کلثوم بائی ولیکا (KV) سوشل سیکیورٹی ہسپتال جیسے کثیر الجہتی اور محنت کش طبقے کے مرکزِ نگہداشت کے پس منظر میں ڈاکٹر صائمہ غیاث الدین کی اس غیر معمولی اور تاریخی کامیابی کا طائرانہ و محققانہ جائزہ لیتے ہیں، تو یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ انہوں نے اپنے وجود کو محنت کی اس بھٹی میں جھونکا جہاں سے کندن بن کر نکلنا ہی واحد راستہ تھا۔

یہ کامیابی اس صنعتی اور سماجی ماحول کے لیے ایک فکری استعارہ بن چکی ہے، جہاں وسائل کی کمیابی کے باوجود عزمِ صمیم کی روشنی ایک ایسا سیاسی و سماجی ڈراما تخلیق کرتی ہے جس کا ہر کردار بالآخر روشنی کے سفر پر گامزن ہو جاتا ہے۔ انہوں نے اس ادارے کی تاریخ کا پہلا اور منفرد ترین باب رقم کرکے نہ صرف صنفِ نازک کی علمی........

© Daily Urdu