menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Chiragh e Karbala

24 0
25.06.2026

تاریخ کے وسیع و عریض عجائب خانے میں بعض لمحے ایسے بھی محفوظ ہیں جو وقت کے زنگ سے کبھی متاثر نہیں ہوتے۔ وہ صدیوں کے فاصلے کے باوجود انسانی شعور کے دریچوں پر اسی شدت سے دستک دیتے رہتے ہیں جیسے ابھی ابھی وقوع پذیر ہوئے ہوں۔ مدینے کی ایک ایسی ہی دوپہر تھی جب سورج صرف زمین پر نہیں، ضمیر کے آسمان پر بھی دہک رہا تھا۔ بظاہر ایک حکمران کی بیعت کا مطالبہ سامنے تھا، مگر درحقیقت یہ سوال اس سے کہیں بڑا تھا۔ اقتدار ایک دستاویز پر دستخط چاہتا تھا، جبکہ تاریخ انسان کے باطن سے ایک فیصلہ طلب کر رہی تھی۔

دربار کے مشیر، مصلحت کے سوداگر اور عافیت کے فلسفی اپنے اپنے ترازو لیے کھڑے تھے۔ ہر ایک کے پاس بقا کا ایک نسخہ تھا، ہر زبان پر احتیاط کی نصیحت تھی اور ہر دلیل کا حاصل یہ تھا کہ طاقت کے سامنے سر جھکا دینا ہی دانش مندی ہے۔ مگر بعض اوقات تاریخ کا دھارا محفوظ راستوں سے نہیں بدلتا بلکہ ایک ایسا انکار اسے نئی سمت دیتا ہے جو بظاہر نقصان اور حقیقت میں آنے والی نسلوں کی نجات ہوتا ہے۔ یہی وہ لمحہ تھا جب حق اور مصلحت آمنے سامنے کھڑے تھے، ایک طرف وقتی سکون تھا اور دوسری طرف دائمی صداقت۔ مدینے کی اس تپتی فضا میں جو فیصلہ صادر ہوا، اس نے........

© Daily Urdu