Aslahe Ke Dher Aur Insaniyat Ki Bheek
اسلحے کے ڈھیر اور انسانیت کی بھیک
عجیب وقت ہے۔ ایک طرف واشنگٹن میں قانون ساز ایک ٹریلین ڈالر کے دفاعی بجٹ پر مہر لگا رہے ہیں، دوسری طرف جنیوا میں اقوامِ متحدہ کے دفتر برائے مہاجرین کے عملے کو اپنی میزیں پیک کرنی پڑ رہی ہیں کیونکہ بجٹ میں اتنے بڑے پیمانے پر کٹوتیاں کی گئی ہیں کہ چھوٹی عمارت میں منتقلی کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ یہ متضاد منظر ایک ایسے عالمی نظام کی عکاسی کرتا ہے جو جنگ کے لیے تو خزانے کے دروازے کھول دیتا ہے، لیکن ایک بچھڑے ہوئے بچے کی جان بچانے کے لیے حساب کتاب شروع کر دیتا ہے۔
بیس پچیس کا سال انسانیت کے لیے کئی اعتبار سے سخت امتحان بنا ہوا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق زمین پر ہر سترواں شخص اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہے یعنی ایک سو بائیس ملین انسان، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے۔ انسانی تاریخ میں اس سے بڑی بے گھری کی لہر کبھی نہیں دیکھی گئی۔ ایسے میں پینٹاگون کے بجٹ میں ستّر ارب ڈالر کا اضافہ کیا جائے، جبکہ اقوامِ متحدہ کے مہاجرین کے ادارے کا امریکی حصہ چالیس فیصد سے گھٹ کر محض سولہ فیصد رہ جائے، تو یہ کوئی سادہ پالیسی فیصلہ نہیں یہ ایک عالمگیر ترجیح کا اعلان ہے۔
یہاں ایک عجیب سی کہانی یاد آتی ہے، ایک بادشاہ جسے اپنے محل کے چھتوں پر گھاس اگنے کا خوف تھا، اس نے سپاہیوں کو حکم دیا کہ شہر کی........
