menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Askari Barbariat

19 0
09.04.2026

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات اور ایران کے خلاف ان کی جارحانہ پالیسی نے عالمی منظرنامے میں ایک نہایت تشویشناک اور خطرناک صورتحال پیدا کر دی ہے، جس میں جنگی بربریت اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی واضح طور پر نظر آتی ہے۔ امریکی صدر نے ایران کو "پتھر کے زمانے میں لوٹانے" کی دھمکی دی، جو محض الفاظ کا کھیل نہیں بلکہ ایک طویل المدت عسکری منصوبہ بندی اور بین الاقوامی قانون کے مکمل انکار کا عملی اظہار ہے۔ اس بیان سے یہ واضح ہوگیا کہ امریکہ اور اس کے حلیف، خاص طور پر صیہونی حکومت، ایران کے انفراسٹرکچر، بنیادی ڈھانچے اور شہری زندگی کو منظم اور بڑے پیمانے پر نقصان پہنچانے کی نیت رکھتے ہیں، تاکہ نہ صرف ایران پر سیاسی دباؤ ڈالا جا سکے بلکہ اس کی عسکری اور اقتصادی خودمختاری کو بھی محدود کیا جا سکے۔

تاریخی اور تہذیبی اعتبار سے ایران ایک ایسی قوم ہے جس نے صدیوں تک مختلف بحرانوں، جنگوں اور حملوں کا مقابلہ کیا ہے۔ تہذیبی تسلسل، عسکری خود انحصاری اور قومی یکجہتی وہ ستون ہیں جن پر یہ ملک قائم ہے۔ یہ وہ عناصر ہیں جو ایران کو محض عسکری حملوں کے ذریعے زیر کرنے کی کوشش کو ناممکن بنا دیتے ہیں۔ امریکہ کے دعوے کہ ایران کو پتھر کے زمانے میں واپس لوٹایا جا سکتا ہے، حقیقت میں ایک غیر حقیقی اور مبالغہ آمیز بیان ہے، کیونکہ ایران کی تاریخی بقا، اس کی مضبوط قومی شناخت اور عوامی بیداری اس طرح کی جارحیت کے اثرات کو محدود کر دیتی ہے۔

ٹرمپ کے بیانات اور سوشل میڈیا پوسٹس میں دھمکی آمیز زبان، فحش جملے اور متضاد مذہبی حوالہ جات جیسے "اللہ کی حمد" کی آمیزش نے ایک غیر معمولی اور خطرناک سفارتی منظرنامہ قائم کیا ہے۔ ایسے بیانات عالمی سطح پر جنگی........

© Daily Urdu