Americi Siasat Aur Pakistan Ka Mustaqbil
امریکی سیاست اور پاکستان کا مستقبل
موسمِ گرما کی ایک شام تھی، جب میں اپنے ایک دانشور دوست کے ساتھ تاریخی شہر کی پرانی فصیل پر ٹہل رہا تھا۔ غروبِ آفتاب کی سرخ شعاعیں افق کو سنہری کر رہی تھیں اور ہمارے سامنے عالمی سیاست کا ایک نیا منظر تھا۔ میرے دوست نے کہا، "کیا آپ نے دیکھا کہ امریکہ کی مشرق وسطیٰ میں حکمت عملی کیسے بدل رہی ہے؟ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ محض عارضی تبدیلی ہے، مگر میرا گمان ہے کہ اس کے پیچھے گہرے اسباب ہیں"۔
میں نے کہا، "کیا آپ کا یہ خیال اس لیے ہے کہ امریکہ اپنی فوجی طاقت کو کم کر رہا ہے؟"
دوست نے جواب دیا، "نہیں، بلکہ اس لیے کہ وہ اپنے ہی نظام کا شکار ہو رہا ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ پیٹریاٹ انٹرسیپٹرز کا دو تہائی اور THAAD کا ساٹھ فیصد ذخیرہ استعمال ہو چکا ہے؟ یہ اعداد و شمار اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ ایک سپر پاور جو کبھی اپنے بے پناہ جنگی ذخیرے پر نازاں تھی، اب اپنی بقا اور ردِ عمل کے درمیان ایک مشکل چال چل رہی ہے"۔
میں نے کہا، "تو کیا آپ کا مطلب یہ ہے کہ امریکہ کی یہ 'لو کلید' حکمت عملی محض ایک نیا حربہ نہیں، بلکہ اس کی اندرونی کمزوری کا عکس ہے؟"
دوست نے سر ہلاتے ہوئے کہا، "بالکل ایسا ہی ہے۔ جب کوئی طاقت اپنے اتحادیوں کو کھونے لگتی ہے، تو اس کا اثر پوری عالمی معیشت پر پڑتا ہے۔ دیکھیں، خلیجی ریاستیں جن کے پاس کھربوں ڈالر کے امریکی ٹریژری بل ہیں، اب لیکویڈیٹی بحران کا سامنا کر رہی ہیں۔ یہ وہ لمحہ ہے جب پیٹرو ڈالر کی عمارت اپنی ہی بنیادوں پر لرز رہی ہے"۔
میں نے کہا، "تو کیا آپ کہہ رہے ہیں کہ امریکہ کا پابندیوں کا نظام، جو کبھی عالمی سیاست کا ناقابلِ شکست ہتھیار تھا، اب اپنے ہی........
