menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Aman Ki Janib Pesh Raft

27 0
15.04.2026

خطے کی سیاست میں بعض لمحات ایسے آتے ہیں جو محض سفارتی سرگرمی نہیں ہوتے بلکہ مستقبل کی سمت کا تعین کرتے ہیں۔ حالیہ دنوں چین کے شہر اُرمچی میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان ہونے والی بات چیت بھی اسی نوعیت کی ایک اہم پیش رفت ہے، جس نے نہ صرف دو ہمسایہ ممالک کے مابین کشیدگی میں کمی کی امید پیدا کی ہے بلکہ پورے خطے میں استحکام کے امکانات کو بھی تقویت دی ہے۔ یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات ہمیشہ اتار چڑھاؤ کا شکار رہے ہیں، جہاں تاریخی بداعتمادی، سرحدی تنازعات، سیکیورٹی خدشات اور داخلی سیاسی عوامل نے تعلقات کو پیچیدہ بنائے رکھا۔ ایسے میں اگر دونوں ممالک ایک جامع اور پائیدار حل کی جانب پیش قدمی پر آمادہ ہوتے ہیں تو اسے معمولی پیش رفت قرار دینا حقیقت سے انکار کے مترادف ہوگا۔

یہ بات چیت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب گزشتہ برس اکتوبر کے بعد سے دونوں ممالک کے تعلقات میں واضح تناؤ دیکھنے میں آیا۔ سرحدی جھڑپیں، ایک دوسرے پر الزامات اور داخلی سطح پر سخت بیانات نے فضا کو خاصا مکدر کر دیا تھا۔ اس پس منظر میں چین کی میزبانی میں ہونے والی ملاقاتوں کو محض ایک رسمی سفارتی عمل نہیں بلکہ ایک سنجیدہ کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس کا مقصد نہ صرف فوری تنازعے کو ٹھنڈا کرنا ہے بلکہ ان بنیادی مسائل کی نشاندہی اور ان کا حل تلاش کرنا بھی ہے جو بارہا دونوں ممالک کو تصادم کی جانب لے جاتے ہیں۔

چین کا اس عمل میں........

© Daily Urdu