menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Afghanistan Ki Proxy Jang

21 0
15.05.2026

افغانستان کی پراکسی جنگ

جنوبی ایشیا کا تزویراتی و جغرافیائی منظرنامہ ایک مرتبہ پھر ایسے نازک انعطافیۂ تاریخ پر متمکن دکھائی دیتا ہے جہاں کلاسیکی سفارت کاری، سرحدی تحفظات، نظریاتی تصادمات، خفیہ حربیاتی نظم اور بالواسطہ ریاستی محاذ آرائیاں باہم اس درجہ متداخل ہو چکی ہیں کہ ان کے مابین امتیاز کی روایتی حد بندیاں تحلیل ہوتی محسوس ہوتی ہیں۔ پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف کا حالیہ بیانیہ محض ایک رسمی سیاسی اظہار یا وقتی خطیبانہ ابال نہیں بلکہ اس تغیر پذیر جیوپولیٹیکل حقیقت کا آئینہ دار ہے جس میں ریاستیں براہِ راست عسکری تصادم کے بجائے غیر ریاستی نیٹ ورکس، نظریاتی عسکریت، استخباراتی سرپرستی اور پوشیدہ پراکسیاتی ڈھانچوں کے ذریعے اپنے خصومتی اہداف کی تکمیل کا رجحان اختیار کر چکی ہیں۔

افغانستان کے باب میں ان کا دوٹوک اور غیر مبہم مؤقف دراصل اس امر کی غمازی کرتا ہے کہ اسلام آباد اب سرحد پار دہشت گردی کو محض ایک سکیورٹی چیلنج نہیں بلکہ ریاستی بقا، داخلی استحکام، جغرافیائی خودمختاری اور وفاقی سالمیت کے ہمہ گیر بحران کے طور پر متشکل دیکھ رہا ہے۔

گزشتہ دو دہائیوں کے دوران افغانستان عالمی قوتوں کے تصادمی مفادات، علاقائی بالادستی کی کشمکش، نظریاتی انتہاپسندی اور جغرافیائی رقابتوں کا ایسا محور بنا رہا جس نے پورے خطے کو مستقل اضطراب میں مبتلا رکھا۔ امریکی انخلا کے بعد یہ امید وابستہ کی جا رہی تھی کہ طالبان اقتدار ایک نسبتاً متوازن اور حقیقت پسند سیاسی نظم کی تشکیل کی جانب مراجعت اختیار کرے گا اور بالخصوص پاکستان کے ساتھ اعتماد سازی، سرحدی استحکام اور باہمی سلامتی کے نئے امکانات پیدا ہوں........

© Daily Urdu